عوام گرمی سے مر رہے ہیں آخر عدالت کو لوڈ شیڈنگ پر کچھ کرنا پڑیگا چیف جسٹس

30جون تک گردشی قرضے کے300 ارب اداکردیں گے،اٹارنی جنرل، فاضل بینچ نے اسلام آبادمیں فارم ہاؤسزکیخلاف آپریشن روک دیا


Numainda Express June 27, 2013
جسٹس جوادکی سراہی میں بینچ کاآڈٹ سے انکاری سرکاری اداروں کودوبارہ نوٹس،اولمپکس ایسوسی ایشن کیس میں دوبارہ الیکشن کی تجویز فوٹو: فائل

سپریم کورٹ نے لوڈشیڈنگ کے بارے میں این ٹی ڈی سی کی رپورٹ مستردکرتے ہوئے تمام تقسیم کارکمپنوں کے چیف ایگزیکٹوزسے بجلی کی طلب اوررسدکی رپورٹ طلب کرلی ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے اگر لوڈ شیڈنگ ختم کرنی ہے توپیداوارکیلیے ہائیڈل پر جانا پڑے گا، وزارت پانی وبجلی کی جانب سے لوڈ شیڈنگ میں کمی کی یقین دہانی کے باوجودچھ ،چھ، آٹھ ،آٹھ گھنٹے کی مسلسل لوڈ شیڈنگ ہورہی ہے، عوام گرمی سے مررہے ہیں عدالت کوآخر کچھ توکرناپڑے گا ۔چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدر ی کی سربراہی میں جسٹس اعجازچوہدری اورجسٹس گلزاراحمد پرمشتمل تین رکنی بنچ نے سماعت کی۔چیف جسٹس نے کہا کہ ملک کی کل ضرورت 17ہزار میگاواٹ جبکہ پیداوار12500میگاواٹ ہے جس کے پیش نظر لوڈ شیڈنگ سات گھنٹے سے زیادہ ہرگزنہیں ہونی چاہیے،واپڈا کوہر حالت میں عوام کو17گھنٹے بجلی فراہم کرنا ہوگی۔ ایم ڈی پیپکو ضرغام اسحاق نے کہا کہ 5 ہزارمیگاواٹ کی قلت پرلوڈشیڈنگ کی شرح دس گھنٹے بنتی ہے۔فیصل آبادکے فیکٹری مالکان نے عدالت کوبتایاکہ ان کے ساتھ امتیازی سکوک کیاجارہا ہے ہرجگہ صنعتیں چل رہی ہیں لیکن ہمارے پاس بجلی نہیں ،چیف جسٹس نے کہا کہ جوصنعتں چل رہی ہیں انہوں نے گیس پلانٹ لگائے ہیں۔

عدالت کے استفسارپراٹارنی جنرل نے بتایا کہ 30 جون تک گردشی قرضہ کے300 ارب روپے اداکردیئے جائیں گے جبکہ باقی ماندہ رقم اگلے 60 روزمیں اداکردی جائے گی۔انھوں نے بتایا کہ یہ رقم بانڈکے ذریعے حاصل کی جائے گی۔اٹارنی جنرل نے بتایاکہ بلوچستان اورخیبرپختونخوا میں ریکوری نہیں ہوتی جس کاسارا بوجھ مرکز پرپڑتاہے ۔چیف جسٹس نے کہا کہ جوصوبے بل ادا نہیں کرتے ان سے رقم دوسری مد میں وصول کی جائے۔عدالت کوبتایاگیاکہ اس وقت کل 27منصوبے زیر تکمیل ہیں جبکہ نئے منصوبوں کیلیے مزید 22 لائسنس جاری کئے گئے ہیں۔فاضل بنچ نے اسلام آبادکے زرعی فارمز پر اضافی تعمیرات کو منہدم کرنے کیخلاف حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے حکومت سے جواب طلب کر لیا ہے۔



عدالت نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ وہ سی ڈی اے کی جانب سے رولز میں تبدیلی اور اس سے سینکڑوں افرادکے متاثر ہونے کے حوالے سے حکومت سے ہدایات لیں اور معاملے کا حل تجویزکریں۔ متاثرین نے عدالت کو بتایا کہ نئی تعمیرات سی ڈی اے کی اجازت سے کی گئیں مگر اب سی ڈی اے نے انہیں گرانے کے نوٹس جاری کردیئے ہیں ۔سی ڈی اے کی جانب سے بتایا گیا کہ مذکورہ نوٹس عدالتی احکامات کی روشنی میں جاری کئے گئے، زرعی فارمز میں 2004 سے قبل 4850مربع فٹ ایریا پر تعمیرات کی اجازت تھی تاہم سی ڈی اے بورڈ نے2004میں رولز میں تبدیلی کی اور تعمیرات کا ایریا بڑھا کر دس ہزار مربع فٹ کردیا ، عدالتی فیصلہ آنے کے بعدسی ڈی اے بورڈکی میٹننگ ہوئی جس میں یہ بات سامنے آئی کہ 2004کا فیصلہ درست نہیں تھا اس لیے اسے واپس لے لیا گیا ہے جس کے بعد زرعی فارم مالکان کو نوٹس کئے گئے کہ وہ 4850مربع فٹ سے زائد تعمیرات خودگرادیں بصورت دیگر سی ڈی اے گرائے گا ۔

عدالت نے کہا غلط فیصلہ آپ نے کیا، اسکی سزا مالکان کوکیوں دی جارہی ہے ۔جسٹس جوادایس خواجہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے آڈٹ سے انکارکرنے والی سرکاری کمپنیوں اور خود مختار اداروںکو دوبارہ نوٹس جاری کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ سکیورٹیز اینڈ ایکسچنج کمیشن کی طرف سے لیگل ایڈوائزر پیش ہوئے اورکہا کہ آڈٹ سے کمیشن کی مالیاتی خود مختاری متاثر ہوگی، عدالت نے یہ موقف مستردکردیا ۔مسابقی کمیشن کے نمائندے نے بتایا کہ ادارے کا آڈٹ فرگوسن کمپنی سے کرایا جاتا ہے لیکن عدالت نے اس موقف کو بھی مستردکر دیا اس پر انھوں نے وکیل کی خدمات حاصل کرنے کی استدعا کی ۔فاضل بنچ نے پاکستان اولمپکس ایسوسی ایشن کے انتخابات کوکالعدم کرنے کے ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف دائر اپیل پر پاکستان اولمپکس ایسوسی ایشن میں دوبارہ الیکشن کرانیکی تجویز دیتے ہوئے فریقین کو خود تنازع کا تصفیہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔ جسٹس جواد نے کہا ایسوی ایشن دوبارہ الیکشن کیوں نہیںکراتی کیونکہ بادی النظر میں انتخابات میں بے قاعدگیاں نظر آرہی ہیں۔

ایسوسی ایشن کے وکیل خواجہ حارث نے عدالت کو بتایا ایسوسی ایشن انٹرنیشنل اولمپک کونسل کے چارٹرکے تحت کام کرتی ہے، تازہ الیکشن کیلیے آئی او سی سے منظوری لینا پڑے گی کیونکہ جو الیکشن ہو چکے ہیں اسے وہ تسلیم کر چکی ہے۔جسٹس جواد نے کہا ہم نے اپنے قانون کے مطابق اس کو دیکھنا ہے، اگر آئی او سی کو اعتراض ہو تو وہ جہاں چاہے چارہ جوئی کریں۔عدالت نے مزید سماعت منگل تک ملتوی کر دی ۔ آن لائن کے مطابق چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ نے سزائے موت کے قیدیوں کی اپیلوںکی سماعت اٹارنی جنرل کی عدم دستیابی کی وجہ سے غیر معینہ مدت تک ملتوی کردیں، یہ اپیلیں ملک بھرکی جیلوں میں قید سزائے موت کے قیدیوں کی جانب سے دائرکی گئی ہیں۔