شہباز شریف جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل، پولیس اور لیگی کارکنوں میں ہاتھا پائی

ویب ڈیسک  جمعرات 6 دسمبر 2018
احتساب عدالت کے باہر پولیس نے متعدد کارکنوں کو حراست میں لے لیا فوٹو: فائل

احتساب عدالت کے باہر پولیس نے متعدد کارکنوں کو حراست میں لے لیا فوٹو: فائل

 لاہور: احتساب عدالت نے مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تاہم اس موقع پر پارٹی کارکنوں اور پولیس کے درمیان شدید ہاتھا پائی بھی ہوئی۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کو جوڈیشل کمپلیکس لاہور میں احتساب عدالت کے جج سید نجم الحسن کے روبرو پیش کیا گیا، نیب پراسیکوٹر وارث علی جنجوعہ نے ملزم کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تاہم نیب پراسیکوٹر عدالت کو مطمئن نہ کرسکے۔ فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے شہباز شریف کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوادیا۔

سیکیورٹی سخت

شہباز شریف کی پیشی کے موقع پر احتساب عدالت جوڈیشل کمپلیکس جانے والے تمام راستوں اور گلیوں پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی۔ (ن) لیگی کارکنوں سے نمٹنے کے لئے واٹر کینن بھی منگوائی گئی، سیکرٹریٹ چوک میں پولیس اور اینٹی رائٹ دستوں نے لوہے کی مضبوط جالیوں کی حفاظتی دیوار قائم کر دی جب کہ عدالت کے احاطے میں رینجرز کے اہلکار بھی موجود تھے۔

راستے، دکانیں اور بینک بند 

اس موقع پر لوئر مال روڈ کی دونوں سڑکوں کو ایم اے او کالج سے پی ایم جی چوک تک کنٹینرز لگا کر بند کر دیا گیا، جوڈیشل کمپلیکس کے اطراف میں قائم دکانیں، ورکشاپس اورر پٹرول پمپس بند کروا دیئے گئے۔ اس راستے پر آنے والی ٹریفک کو متبادل راستوں کی جانب موڑا جارہا ہے۔ سڑکوں اور راستوں کی بندش سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

لیگی کارکنوں اور پولیس میں جھڑپ

شہباز شریف کی عدالت پیشی کے موقع پر (ن) لیگ کے کارکنوں کی بڑی تعداد عدالت پہنچ گئی، جنہوں نے شہباز شریف کی تصاویر والے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے۔ کارکنوں نے عدالت میں گھسنے کے لیے رکاوٹوں کو ہٹانے کی کوشش کی تو پولیس نے لاٹھی چارج شروع کردیا۔  پولیس نے متعدد کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔