چڑیا گھر کے اطرف قائم 150 دکانیں ملبے کا ڈھیر بنا دی گئیں

مسمار کی گئیں دکانیں 7 عشروں سے قائم تھیں


Staff Reporter January 06, 2019
 سپریم کورٹ کے احکام پر مزید تجاوزات کا خاتمہ کریں گے، فوٹوفائل

لاہور: کراچی کے قدیم چڑیا گھر کے اطراف میں قائم سات عشروں پرانی دکانوں کے خلاف کارروائی میں دیگر کارروبار کے خاتمے کے ساتھ شادیوں اوردیگر پرمسرت مواقعوں پر گونجنے والی شہنائیاں بھی خاموش کردی گئیں۔

مارکیٹ کی بالائی منزل پربینڈباجوں کی درجنوں دکانیں بھی ماضی کے اوراق میں دفن ہوگئیں، انسداد تجاوزات آپریشن کے دوران لگ بھگ 405 دکانوں اور دفاتر کو مسمار کیاجائے گا، پہلے روز کی کارروائی کے دوران 150 دکانیں مسمار کردی گئیں آپریشن 3 دن تک جاری رہے گا۔ تفصیلات کے مطابق ایمپریس مارکیٹ کے اطراف تجاوزات کے خاتمے کے بعد کے ایم سی انتظامیہ نے گارڈن کے علاقے کراچی چڑیا گھر سے متصل 200 دکانیں اور 205 دفاتر کو گرانے کا کام شروع کردیا ہے آپریشن کے پہلے روز کے ایم سی کی ہیوی مشینری نے150 دکانوں کو مسمار کیا جس میں بینڈ باجے، گاڑیوں کی بیٹریوں، گاڑیوں کے فاضل پرزہ جات، کھانوں کے مختلف ڈھابوں و دیگر دکانیں قائم تھیں، گرائی جانے والی مارکیٹ کی بالائی منزل پر بینڈ باجوں کی ان گنت دکانیں قائم تھیں۔

گارڈن مزار سے شو مارکیٹ کی جانب سڑک پر سے گزرتے وقت اوپرقائم دکانوں سے پیتل کے چمچماتے بینڈ باجے اوراس شعبے سے وابستہ روایتی شہنائی اور بینڈ باجے بجائے والے اپنا مخصوص لباس زیب تن کیے، دکھائی دیتے تھے،جو پیدل اور گاڑی سواروں کی توجہ اپنی جانب مبذول کروالیتے تھے،جدید ترقی کے باوجود آج بھی گھروں میں شادی بیاہ ودیگر پرمسرت لمحات میں ان بینڈ باجے والوں کو بڑے اہتمام سے بلوایاجاتا تھا ، آپریشن کے دوران کسی بھی ہنگا می صورتحال سے نمٹنے کے لیے رینجرز اور پولیس کی اضافی نفری کا انتظام کیا تھا تاہم اس موقع پر گارڈن سے لسبیلہ جانے والی سڑک ٹریفک کیلیے مختلف رکاوٹیں لگا کر بند کردی گئی۔

اس سے قبل دکانداروں نے ڈائریکٹر اینٹی انکروچمنٹ سے مزید دو گھنٹوں کی مہلت مانگی اور دکانوں میں باقی رہ جانے والا سامان ازخود محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا واضح رہے کہ قیام پاکستان سے قبل تعمیرشدہ چڑیا گھر کی حدود میں دکا نیں قائم تھی بلد یہ عظمیٰ کراچی محکمہ اسٹیٹ نے 1960 میں با ضابط ان دکانوں کو کر ایہ پر دیا تھا جب سے یہاں پر تجارتی سرگرمیاں جاری تھیں،سپر یم کورٹ کے احکاما ت کے بعد چڑیا گھر (گا ندی گا رڈن ) کے دکا ندارو ں کو کے ایم سی کے محکمہ اسٹیٹ کی جانب سے یکم جنوری کو نو ٹس جا ری کر دئیے گئے تھے کہ فو ری طو ر پر دکانیں اور دفاتر خالی کیے جائیں ساتھ ہی کے ایم سی نے کر ایہ نا مہ کا معاہدہ بھی ختم کردیا تھا ڈائریکٹر اینٹی انکروچمنٹ بشیر صدیقی نے ایکسپریس کو بتایا کہ زولوجیکل گارڈن اور اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے یہ دکانیں کرائے پر دیں تھی، لیکن سپریم کورٹ کے احکام کے بعد ان دکان مالکان کو دکانیں خالی کرنے کے لیے پہلے ہی نوٹس دے دیا گیا تھا۔

اس وقت چار ٹیمیں اے، بی، سی اور ڈی کام کر رہی ہیں، دو سے 3 روز میں یہ تمام دکانیں مسمار کر دی جائیں گی ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ دکانوں کے پیچھے زولوجیکل گارڈن کے ملازمین کے گھر تعمیر ہیں ان کو بھی پہلے ہی نوٹس جاری کر دیے گئے ہیں لیکن پہلے مرحلے میں ہم کمرشل سرگرمیوں کو ختم کر رہے ہیں بعد ازاں گھر مسمار کئے جائیں گے اس کے علاوہ شہر میں باغ ابن قاسم میں قائم عمارت کو گرانے کا کام بھی جاری ہے۔

کے ایم سی کی مارکیٹیں تجاوزات نہیں ،تاجر

کے ایم سی کی7 مارکیٹوں کے نمائندوں نے1012دکانوں اور دفاترکے انہدام کے لیے جاری کیے گئے نوٹسز کو مسترد کرتے ہوئے میئر کو پیر 7 جنوری سہ پہر3 بجے تک کاوقت دیتے ہوئے دکانداروں کے لیے متبادل جگہ فراہم کرنے کامطالبہ کیا ہے ،یہ مطالبہ بہادرشاہ ظفرمارکیٹ، اورنگزیب مارکیٹ، ٹائر مارکیٹ، موٹرسائیکل اسپیئرپارٹس مارکیٹ، اردوبازار، تاج محل مارکیٹ اورجوبلی مارکیٹ کے تاجر نمائندوں نے پریس کانفرنس کے بعد ایم اے جناح روڈ پرعلامتی احتجاج کے دوران کیا۔

فیصل خلیل، لیاقت شیخ ،آدم حسین ،محمداحسان اور دیگر نے کہاکہ اگروسیم اختر نے پیرسہ پہر3بجے تک تاجروں نمائندوں سے رابطہ کرکے ان کے لیے متبادل جگہ کا اعلان نہ کیا تووہ ایم جناح روڈ کواحتجاج کرکے بندکردیںگے،قبل ازیں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کے ایم سی مارکیٹوں کے نمائندوں نے کہاکہ کے ایم سی کی مارکیٹیں انکروچمنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ان دکانوںکے دیرینہ کرایہ دار قبضہ مافیا ہیں بلکہ وہ رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان ہیں لیکن مئیر انکروچمنٹ اورنالوں کی صفائی کی آڑ میں ہزاروں خاندانوں کا روزگار چھین رہے ہیں ،کے ایم سی کی جانب سے تاج محل مارکیٹ ، اورنگزیب مارکیٹ ،بہادر شاہ مارکیٹ اردو بازار اور جوبلی مارکیٹ کو پیر تک خالی کرنے کا نوٹس دے دیا گیا ہے۔

جوان بیٹیاں ہیں سمجھ نہیں آتا کہ گھر کیسے چلے گا، متاثرہ شخص

کراچی (اسٹاف رپورٹر) متاثرہ شخص نے کہا کہ 40 سال سے میں اس دکان کو چلا رہا ہوں میرے والد صاحب کو یہ دکان 1962 میں ملی تھی اور 1975 سے یہ دکان میں چلا رہا ہوں، کے ایم سی انتظامیہ 3 ماہ کا ٹائم دیتی تو یہ دکانیں ہم خود مسمار کرا دیتے، انھوں نے 21 تاریخ کا نوٹس دیا اور ابھی سے کارروائی کر رہے ہیں یہ انتہائی ظلم ہے میری تو جوان بیٹیاں ہیں سمجھ نہیں آتا کہ گھر کیسے چلے گا، ہمارا واحد ذریعہ معاش یہی دکانیں ہیں آج اپنی آنکھوں کے سامنے اپنی جمع پونجی لٹتی ہوئی دیکھ کر دل پھٹ رہا ہے سمجھ نہیں آتا آگے زندگی کیسے گزرے گی۔

دکانداروں نے شام کے اوقات میں احتجاج کیا، ٹائر اور پرانا سامان جلا کر سڑک بلاک کردی اور کے ایم سی انتظامیہ کے خلاف شدید نعرے بازی کی تاہم پولیس نے صورتحال کو کنٹرول کرلیادوسری جانب گارڈن میں تجاوزات کیخلاف دکانوں کو منہدم کرنے کی کارروائی جاری تھی کہ کارروائی کے دوران اچانک تجاوزات کا ملبہ روڈ پر گرا اورملبے کی زد میں آ کر ایک شخص زخمی ہوگیا ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اورزخمی شخص کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔