ہائیکورٹ کا زائد فیسیں واپس نہ کرنے والے اسکولوں کے خلاف کارروائی کا حکم

عدالت نے نجی اسکولوں کی جانب سے والدین کو واپس کی جانے والی زائد فیس کی تفصیلات بھی مانگ لیں


ویب ڈیسک January 28, 2019
عدالت کا متعلقہ حکام کو نجی اسکولوں کو واپس کی جانے والی زائد فیس کی تفصیلات پیش کرنے کی بھی ہدایت (فوٹو: فائل)

سندھ ہائی کورٹ نے اسکول فیسوں میں اضافے سے متعلق توہین عدالت کی درخواست پر ڈائریکٹر پرائیویٹ اسکولز کو عدالتی احکام پر عمل درآمد کرانے اور عمل نہ کرنے والے اسکولوں کے خلاف کارروائی جاری رکھنے کا حکم دے دیا، عدالت نے متعلقہ حکام کو نجی اسکولوں کو واپس کی جانے والی زائد فیس کی تفصیلات پیش کرنے کی بھی ہدایت کردی۔

جسٹس عقیل عباسی، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسز اشرف جہاں پر مشتمل 3 رکنی بینچ کے روبرو اسکول فیسوں میں اضافے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، اسکول فیس سے متعلق سپریم کورٹ کا حکم نامہ پیش کیا گیا۔

ڈائریکٹر پرائیویٹ اسکولز منصوب صدیقی نے بتایا کہ ہیڈ اسٹارٹ اور فاؤنڈیشن اسکول کو بقایا جات کی تفصیل بتادی ہے، سٹی اور بیکن ہاؤس اسکولز کا فیس اسٹرکچر منظور نہیں ہوا ہے، فیس اسٹرکچر منظور نہ ہونے سے ان اسکولوں کے بقایاجات کا تخمینہ نہیں لگایا جاسکا، سپریم کورٹ کے حکم پر مکمل عمل درآمد کرارہے ہیں۔

فاؤنڈیشن اسکول کے وکیل نے موقف دیا کہ زائد وصول کی گئی فیس والدین کو واپس دے رہے ہیں، سٹی اسکول کے وکیل نے موقف اپنایا کہ 20 فیصد کمی کے مطابق نئے چالان جاری کررہے ہیں، ہائی کورٹ کے حکم کے خلاف اپیل کی سماعت آئندہ ماہ سپریم کورٹ میں ہوگی۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ معاملہ سپریم کورٹ میں ہے اس لیے توہین عدالت کی کارروائی نہیں کی جارہی، درخواست گزار کے وکیل نے موقف دیا کہ سپریم کورٹ کے احکام پر بھی عمل درآمد نہیں ہورہا۔ عدالت نے ریمارکس دیے تو سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائرکریں، عدالت نے ڈی جی اسکولز سے استفسار کیا کہ بیکن اور سٹی اسکول کے حوالے سے کیا ایکشن لیا ہے؟

ڈی جی اسکولز نے جواب دیا کہ ہم نے ان کی رجسٹریشن معطل کر رکھی ہے، عدالت نے ڈی جی اسکولز پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ ان 2 اسکولز کے بچوں کو پیسے واپس دلوائیں گے یا نہیں۔ ڈی جی اسکولز نے بتایا کہ جب ان اسکولوں کی رجسٹریشن بحال ہوگی تو فیس اسٹرکچر کا معاملہ دیکھا جائے گا، سٹی اور بیکن ہاؤس اسکول نے فیس اسٹرکچر کبھی منظور ہی نہیں کرایا جب تک کوئی درخواست نہیں دے گا فیس اسٹرکچر کیسے منظور کریں گے ؟

درخواست گزاروں کے وکیل نے موقف دیا کہ 2006ء میں نجی اسکولوں کا حکم امتناع ختم ہوگیا تھا مگر کارروائی نہیں کی گئی، عدالت نے ریمارکس دیے کیا کریں؟ پھر اسکول بند کردیں؟ کل بچے یہاں کھڑے ہوں گے سندھ حکومت ہی کچھ کرے، ڈی جی اسکولز بے چارے بے بس دکھائی دیتے ہیں پھر سیکریٹری ایجوکشن کو بلوا لیتے ہیں۔

ڈی جی اسکولز نے بتایا کہ ہمارے پاس افرادی قوت کم ہے جن نجی اسکولوں نے عدالتی حکم پر عمل نہیں کیا انھیں بند ہونا چاہیے اورسزائیں ملنی چاہیے مگر ایسا نہیں کر سکتے۔ عدالت نے ڈی جی اسکولز سے مکالمے میں کہا کہ لگتا ہے آپ کی صلاحیت یہی ہے کہ آپ کچھ نہیں کرسکتے، تب ہی عہدے پر ہیں۔

منصوب صدیقی نے بتایا کہ جرمانہ لگاسکتے ہیں یا 6 ماہ کے لیے جیل بھیج سکتے ہیں، نجی اسکول کے وکیل نے موقف دیا کہ 20 فیصد کمی کا اطلاق 5 ہزار روپے سے زائد فیسوں پر ہوگا۔

درخواست گزاروں کے وکیل نے موقف دیا کہ نجی اسکولوں نے سندھ ہائی کورٹ کے 3 ستمبر 2018 کے حکم پر عمل نہیں کیا، فیس میں کمی آخری فیس اسٹرکچر کے مطابق ہونی چاہیے، سپریم کورٹ کے 20 فیصد کمی کے حکم سے پہلے اس سے کہیں زیادہ فیس بڑھائی جاچکی تھی، سندھ ہائی کورٹ نے 3 ستمبر 2018ء کو واضح کیا تھا 5 فیصد سے زائد وصول کی گئی فیس واپس کریں۔

جسٹس عقیل عباسی نے ریمارکس میں کہا کہ یہ وضاحت آپ کو سپریم کورٹ میں کرنی چاہیے تھی، آپ کا نکتہ بظاہر درست ہے مگر یہ بات آپ سپریم کورٹ میں کریں۔ عدالت نے ڈائریکٹر پرائیویٹ اسکولز کو احکام پر عمل درآمد کرانے اورعدالتی حکم پر عمل درآمد نہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی جاری رکھنے کا حکم دے دیا۔

عدالت نے متعلقہ حکام کو نجی اسکولوں کو واپس کی جانے والی زائد فیس کی تفصیلات پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت 25 فروری تک ملتوی کردی۔