رحیم یار خان دہشت گردوں کی فائرنگ مذہبی رہنما بیٹے سمیت جاں بحق

شیخ منظور حسین اپنے بیٹوںکے ہمراہ یوم القدس کی ریلی میں شرکت کیلیے گھرسے نکلے ہی تھےکہ گھات لگائے ملزمان نے حملہ کردیا


Numainda Express August 03, 2013
شیخ منظور حسین اپنے بیٹوں کے ہمراہ یوم القدس کی ریلی میں شرکت کیلیے گھرسے نکلے ہی تھے کہ گھات لگائے ملزمان نے حملہ کردیا. فوٹو: فائل

رحیم یارخان میں موٹر سائیکل سواردہشتگردوں نے اہل تشیع رہنماپرفائرنگ کردی جس کی نتیجے میں اہل تشیع رہنما بیٹے سمیت جاں بحق ہوگئے جبکہ حملہ آور فرار ہوئے حملے میں ایک بیٹا معجزانہ طور پر محفوظ رہا۔

فائرنگ سے گاڑی کا ٹائربھی پھٹ گیا،واقعے کے بعدشہرمیں سخت کشیدگی پھیل گئی اورمشتعل افرادکی بڑی تعداداسپتال پہنچ گئی،بعدازاں میں شہرمیں ہنگامہ اورجلائوگھیرائوشروع ہوگیا۔تفصیلات کے مطابق اہل تشیع رہنماشیخ منظورحسین اپنے بیٹے حیدرعلی اوروکی کے ہمراہ نمازجمعہ و یوم القدس کی ریلی میں شرکت کیلیے اپنی رہائش گاہ عباسیہ ٹائون سے روانہ ہورہے تھے کہ اسی دوران گھات لگائے بیٹھے ملزمان نے ان پر جدید ہتھیاروں سے فائرنگ شروع کر دی اورفرارہوگئے ،فائرنگ سے شیخ منظور حسین اپنے بیٹے حیدرعلی سمیت شدید ہوگئے تاہم ان کادوسرا بیٹا وکی جو گھر کے اندرہی تھا محفوظ رہا۔



ملزمان کی فائرنگ سے گھرکے باہر کھڑی ان کی گاڑی کوبھی نقصان پہنچااور ٹائر پھٹ گیا باپ اوربھائی کو شدید زخمی حالت میں دیکھ کر بیٹے وکی نے انھیں گاڑی میں ڈال کرانہیں اسپتال منتقل کرنے کی کوشش کی تاہم گاڑی کا ٹائرپھٹنے کے باعث دونوں کو اسپتال منتقل کرنے میں شدیددشوار پیش آئی جس کے باعث 22سالہ حیدرعلی زخموں کی تاب نہ لاتے موقع پر ہی دم توڑ گیا جبکہ شیخ منظور حسین بھی اسپتال پہنچے سے قبل ہی جاں بحق ہو گئے۔

واقعے کے بعدشہر کے مختلف بازاروں میں دکانیں بندکرانے کے ساتھ ساتھ توڑ پھوڑ شروع کردی گئی ،بعض مشتعل افراد نے دکانوں کو آگ لگانے کی کوشش بھی کی اورشاہی روڈ پر واقع بینکوں کی اے ٹی ایم مشینوں پر بھی حملے کر کے لوٹنے کی کوشش کی۔بعدازاں پولیس کی بھاری نفری نے شہرکاکنٹرول سنبھالنے کیلیے کارروائی شروع کی اور ڈی پی او کی قیادت میں شاہی روڈ سمیت مختلف شاہراہوں پررکاوٹیں کھڑی کردیں، اسی دوران مشتعل مظاہرین اور پولیس اہلکاروں میں جھڑپیں بھی ہوئی جس سے سب انسپکٹر زخمی ہو گیا،متعدد مشتعل مظاہرین کو حراست میں بھی لے لیاگیا۔