وزیراعلیٰ سندھ کا 41 ہزار خالی اسامیوں پر بھرتیوں کا حکم

گریڈ 1 تا 15 کی خالی اسامیوں پر میرٹ اور شفاف طریقے سے ملازمین کی بھرتی کا عمل شروع کیا جائے، وزیراعلیٰ سندھ


ویب ڈیسک April 08, 2019
تمام بھرتیاں شفاف طریقے اور خالصتاً میرٹ کی بنیاد پر کی جائیں گی۔ مراد علی شاہ۔ فوٹو : فائل

وزیراعلٰی سندھ مراد علی شاہ نے صوبائی محکموں کو ہدایت کی ہے کہ وہ گریڈ 1 سے 15 تک کی 41 ہزار خالی اسامیوں پر ملازمین کی بھرتی شروع کریں۔

ایکسپریس نیوزکے مطابق وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیرصدارت خالی اسامیوں پر بھرتیوں کے حوالے سے اجلاس ہوا، اجلاس میں کابینہ کے اراکین، چیف سیکریٹری سندھ ممتاز شاہ، چیئرمین پی اینڈ ڈی محمد وسیم اور صوبائی سیکریٹریز نے شرکت کی۔

مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ مختلف محکموں میں گریڈ 1 تا گریڈ 17 کی 41 ہزار اسامیاں خالی ہیں، ہماری خواہش ہے کہ یہ تمام اسامیاں پُر کی جائیں تاکہ مختلف محکموں کی کارکردگی بہتر ہوسکے اور اہل و مستحق امیدواروں کو روزگار کے مواقع بھی مہیا ہو سکیں۔

وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ گریڈ 1 تا گریڈ 4 پر بھرتیاں مقامی سطح پر سلیکشن کمیٹیوں کے ذریعے کی جائیں گی، جس میں فنانس، ایس اینڈ جی اے ڈی کے نمائندے شامل ہوں گے، اور صوبائی سیکریٹریز سے کہا کہ خواتین اور معذور افراد کو ان نئی بھرتیوں میں ان کا کوٹہ دیا جائے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ گریڈ 5 تا 15 پر بھرتیاں ٹیسٹنگ سروسز / تھرڈ پارٹی کے ذریعے کی جائیں گی، تاکہ میرٹ کا خیال رکھا جاسکے۔

صوبائی وزیرتعلیم سید سردار شاہ کو ہدایت کی کہ وہ ایک علیحدہ طریقے کار کے ذریعے اساتذہ کی بھرتی کا عمل شروع کریں، اساتذہ کی یہ بھرتیاں اسکول پیسیفک کے تحت ہوں گی تاکہ اساتذہ کی قلت کے مسئلے پر قابو پایا جا سکے۔ صوبائی وزیرتعلیم سید سردار شاہ نے وزیراعلیٰ سندھ کو یقین دلایا کہ اساتذہ کی بھرتیاں گرمیوں کی چھٹیوں کے دوران مکمل کرلی جائیں گی۔

اسی ضمن میں سندھ اسمبلی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلی سندھ کے مشیر برائے اطلاعات بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا ہے کہ سندھ حکومت نے 1 سے 4 گریڈ تک کی سرکاری ملازمتیں مقامی سطح پر جب کہ 5 سے 15 گریڈ کی ملازمتیں ٹیسٹنگ سروس کے ذر یعے دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے، اگلے دو روز میں منظوری کے بعد نوکریاں دینے کا آغاز ہوجائے گا۔ انہوں نے وفاقی حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف نے 50 لاکھ ملازمتوں کا وعدہ کیا مگر پانچ لاکھ نوکریاں بھی نہیں دی گئیں۔

واضح رہے کہ اساتذہ کی اسامیاں موجودہ 41 ہزار اسامیوں کے علاوہ ہیں۔