نجی میڈیکل کالجوں پر فیسوں کے حوالے سے قانون لاگو ہی نہیں ہوتا

داخلہ ٹیسٹ تاخیر سے لینے کا فائدہ نجی ٹیسٹ مراکز کو پہنچ رہا ہے، نجی میڈیکل کالج سے ایک طالبعلم 40 لاکھ روپے میں۔۔۔


Staff Reporter August 20, 2013
نجی میڈیکل کالجوں نے داخلہ ٹیسٹ کا اعلان کردیا،سرکاری میڈیکل کالجوں میں داخلہ ٹیسٹ کے بارے میںحتمی تاریخ کا تعین نہ ہوا ۔ فوٹو : فائل

کراچی کے سرکاری میڈیکل وڈینٹل کالجوں میں داخلوں کے اعلان سے قبل نجی میڈیکل وڈینٹل کالجوں کی انتظامیہ نے داخلوں کااعلان کرکے طے کردہ ضابطے کی خلاف ورزی کردی۔

سابق وزیر صحت ڈاکٹر صغیراحمدکے دور میں محکمہ صحت اور پرائیویٹ کالجوں کی انتظامیہ کے درمیان داخلوں کے حوالے سے ضابطہ طے کیا گیا تھا کہ صوبے کے سرکاری میڈیکل کالجوں میں داخلوں سے قبل پرائیویٹ کالج انتظامیہ انٹری ٹیسٹ لے گی اورنہ داخلوں کااعلان کریگی،کیونکہ پرائیویٹ میڈیکل کالجوں میں سرکاری میڈیکل کالجوں میں داخلوں سے قبل طالب علموں کو داخلے دیکر فیسیں وصول کرلی جاتی ہیں اور جب مذکورہ امیدوارکا نام سرکاری میڈیکل کالج میں داخلہ مل جاتا ہے توپرائیویٹ میڈیکل کالج انتظامیہ فیسیں واپس نہیں کرتی اور یہ عذر پیش کیاجاتا ہے کہ کالج کی ایک سیٹ ضائع ہوجائیگی، دوسری جانب پرائیویٹ میڈیکل کالجوں میں یکساں فیسیں نہ ہونے کی وجہ سے من مانیاں کی جارہی ہیں نجی میڈیکل کالجوں میں ایک ڈاکٹر بننے کیلیے سالانہ 7 سے 8 لاکھ روپے فیس وصول کی جاتی ہیں اور ڈونیشن کے نام پر بھی طالب علموں سے بھاری رقوم وصول کی جاتی ہیں۔

ایم بی بی ایس کورس 5 سال میں مکمل ہوتا ہے جس کی مجموعی فیسیں 35 سے40 لاکھ روپے وصول کی جاتی ہیں جبکہ اس کے مقابلے میں سرکاری کالجوں کی فیسیں سالانہ 50 ہزار تک ہوتی ہیں پرائیویٹ اور سرکاری کالجوں کی فیسوں میں یکسانیت نہ ہونے اوربھاری فیسوں کی وجہ سے والدین مزید معاشی ناہمواریوں کا شکار ہوجاتے ہیں ، میڈیکل کالجوں کو مانیٹرکرنے والی پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی جانب سے نجی کالجوں کی فیسوں کا کوئی تعین نہیں کیا جاسکا، یہی وجہ ہے پرائیویٹ میڈیکل کالجوں کی انتظامیہ من مانیاں فیسں وصول کرتی ہے امسال بھی ستمبر میں میڈیکل کالجوں میں داخلوں کا سلسلہ شروع ہورہا ہے اورنجی میڈیکل کالجوں نے اپنے اپنے کالجوں میں داخلوں کے حوالے سے اشتہارات جاری کردیے۔



دوسری جانب ان نجی میڈیکل وڈینٹل کالجوں کی انتظامیہ نے کراچی میں اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ(انٹر) کے نتائج کے اعلان کی پرواہ کیے بغیرہی نجی میڈیکل کالجوں میں داخلہ ٹیسٹ کا اعلان کر دیا ہے لیکن صوبے کے سرکاری میڈیکل کالجوں میں داخلوں اورداخلہ ٹیسٹ کے بارے میں کوئی حتمی تاریخ کا تعین نہیں کیا جاسکا ہے صوبائی محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ انٹرکے نتائج کے اعلان کے بعد میڈیکل کالجوں میں داخلہ ٹیسٹ اور داخلوں کے شیڈول کااعلان کیاجائیگا جب تک تمام امیدوارمنتظرہیں، دوسری جانب میڈیکل کالجوں میں داخلوں کے خواہشمندطلبہ وطالبات نے میڈیکل کالجوں میں داخلوں کی تیاری کیلیے مختلف ٹیوشن سینٹرزکا رخ کرلیا جہاں داخلہ ٹیسٹ کی تیاری کے نام پر طلبہ سے ہزاروں روپے ماہانہ فیسیں وصول کی جارہی ہیں۔

واضح رہے کہ کراچی میں سرکاری اداروں کے میڈیکل کالجز اور انجینئرنگ کے داخلہ ٹیسٹ تاخیر سے لینے کا فائدہ نجی ٹیسٹ مراکز کو پہنچ رہا ہے اور وہ ٹیسٹ کی تیاری کے نام پر فی طالب علم 25 سے 50 ہزار روپے فی کس وصول کر رہے ہیں اورکروڑوں روپے ماہانہ ٹیکس دیے بغیرکما رہے ہیں۔ واضح رہے کہ محکہ تعلیم کی اسٹیرنگ کمیٹی کے فیصلے کی روشنی میں سندھ کے تمام تعلیمی بورڈز انٹر سائنس کے نتائج 30 ستمبر تک دینے کے پابند ہیں مگر اس کے باوجود محکمہ صحت انٹر بورڈ کو خط لکھ کر نتائج کی تاریخ معلوم کر رہا ہے۔