چند لوگ را سے فنڈز لیکر لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں وزیرخارجہ

بھارت پاک چین دوستی سے متعلق پروپیگنڈا کر رہا ہے، چین پاکستان کا بہترین دوست ہے اور رہے گا، وزیرخارجہ


ویب ڈیسک May 04, 2019
ماضی میں دونوں جماعتوں کی حکومتوں کے معاشی بگاڑ کو سدھارنے میں وقت لگے گا، شاہ محمود قریشی۔ فوٹوفائل

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ چند افراد کے دشمنوں سے تعلقات کے ثبوت اداروں کے پاس موجود ہیں، وہ لوگ را اور دیگر ایجینسیوں سے فنڈز لے کر عوام کو گمراہ کر رہے ہیں۔

ملتان میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ مولانا مسعود اظہر کے معاملے پر بھارت کو منہ کی کھانی پڑی اس نے مسعود اظہر سے متعلق جو جال بچھایا اسی میں پھنس گیا، ہمارے پاس ثبوت ہیں کہ چند لوگ را اور دیگر ایجینسیوں سے فنڈز لے کر لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔ بھارت پاک چین دوستی سے متعلق پروپیگنڈا کر رہا ہے، دشمن کے اس ایجنڈے کو اپنے ذہن پرسوار نہ کیا جائے، چین پاکستان کا بہترین دوست ہے اور رہے گا۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ گورنر اسٹیٹ بینک اور چیئرمین ایف بی آر کو کارکردگی کی بنیاد پر ہٹایا گیا، افسران کے تبادلے ہوتے رہتے ہیں یہ کوئی نئی بات نہیں، اپوزیشن جس تبدیلی پر طنز کر رہی ہے پہلے اس کی وجوہات تو دیکھ لے، مسلم لیگ (ن) کی قیادت بتائے کہ رات و رات مرکزی عہدوں میں تبدیلی کیوں کی گئی، ان کی پارٹی کے لوگ بھی عہدوں میں تبدیلی سے لاعلم تھے، (ن) لیگ والوں نے خود اپنی پارٹی میں گینگ آف فور کی نشاندہی کی جو پارٹی پر مسلط ہے اور فیصلے کررہا ہے، نئے چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے حوالے سے پیپلزپارٹی سے بھی مشاورت نہیں کی گئی، شہباز شریف کی واپسی کے حوالے سے بعد میں ہی معاملات واضح ہوں گے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اپوزیشن والے منتخب حکومت کے مینڈیٹ کا احترام کریں اور 5 سال پورے ہونے کا انتظار کریں، ملک میں بگاڑ کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا یہ سب 8 ماہ میں ہوا ہے، موجودہ مشکل حالات کے ذمے دار ماضی کے حکمران ہیں، ماضی کی حکومتوں کے معاشی بگاڑ کو سدھارنے میں وقت لگے گا۔ مہنگائی کی وجوہات ہیں، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں بڑھیں جس کا پاکستان اثر پڑے گا، ڈالرکی قدر کم ہونے سے مہنگائی کم ہوجائے گی، ادویات کی قیمتیں واپس لانے کی کوشش جاری ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ قبائلی علاقے والے محب وطن پاکستانی ہیں، حکومت قبائلی علاقوں کے مسائل کو حل کرے گی، سندھ حکومت سے درخواست ہے کہ قبائلی علاقوں کی ترقی کے لئے 3 فیصد حصہ دے اور تنگ نظری کا مظاہرہ نہ کرے۔