KARACHI:
بھارتی عدالت نےنابالغ لڑکی سے زیادتی کے الزام میں گرفتار ہندو مذہبی رہنما سنت آسا رام باپو کو 14 روز کے عدالتی ریمانڈ پرجیل بھیج دیا۔
بھارتی ریاست راجستھان کے شہر جودھ پور میں پولیس نے اسا رام باپو کو عدالت میں پیش کرتے ہوئے موقف اختیا کیا کہ پولیس نے اپنی تفتیش مکمل اور تمام شواہد جمع کرلئے ہیں اس لئے انہیں ملزم کے جسمانی ریمانڈ کی ضرورت نہیں جس پر عدالت نے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔ دوسری جانب عدالت منگل کو آسا رام کی جانب سے ضمانت کی درخواست کی سماعت کرے گی جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ان کے خلاف یہ مقدمہ دشمنی کی بنیاد پر دائر کیا گیا ہے اس کے علاوہ وہ بڑھاپے کی وجہ سے شدید بیمار بھی ہیں۔
واضح رہے کہ پولیس نے سنت آسارام کومدھیہ پردیش میں ان کے آشرم سے گزشتہ روز گرفتار کیا تھا، سنت آسا رام پر اتر پردیش کی16 سالہ لڑکی سے زیادتی کا الزام ہے۔ لڑکی کے والدین نے 20 اگست کو نئی دہلی میں واقعے کی رپورٹ درج کرائی تھی۔سنت آسا رام کا نام پہلے بھی کئی تنازعات میں سامنے آچکا ہے۔کچھ عرصے پہلے گجرات میں ان کے آشرم سے بھی2بچوں کی لاشیں ملی تھیں۔