پاکستان میں نیوی گیشن تکنیک سے سائنیسس کی کامیاب جراحی

نجی اسپتال میں سرجن فصیح اللہ نے نیوی گیشن آلے سے سائنیسس جراحی کی، مریض کے چہرے سے فاسد مادے نکال لیے گئے


Staff Reporter September 03, 2013
سرجن فصیح اللہ ایکسپریس کو تفصیلات بتا رہے ہیں۔ فوٹو : ایکسپریس

پاکستان میں پہلی بار سائنیسس کے مرض میں نیوی گیشن تکنیک متعارف کرادی گئی۔

نیوی گیشن ایک مخصوص جدید آلہ ہے جو دوران جراحی سرجن کی رہنمائی کرتا رہتا ہے جسے نیوی گیشن تکنیک کہتے ہیں،دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں اس تکنیک سے کامیاب جراحی ہورہی ہے، کراچی میں پیرکو ایک نجی اسپتال میں سرجن ڈاکٹر فصیح اللہ میر نے نیوی گیشن تکنیک کے ذریعے سائنیسس کی کامیاب جراحی کا عملی مظاہرہ کیا، ملیر کا رہائشی45 سالہ عبدالرحیم پیچیدہ سائینسس کے مرض کا شکار تھا، سائنیسس چہرے اور دونوں گالوں کے درمیان حساس نوعیت کی ہڈیاں ہوتی ہیں ان کے درمیان انفیکشن ہوجانے سے سائینسس کا مرض لاحق ہوتا ہے۔

عبدالرحیم کا مرض پیچیدہ ہونے کی صورت میں نیوی گیشن آلے کی مدد سے سائنیسس اینڈو اسکوپک جراحی کی گئی اس جراحی میں مریض کے چہرے پرٹانکے لگائے گئے اور نہ ہی خون ضائع ہوا، سائنیسس اینڈو اسکوپک لیزر جراحی اورنیوی گیشن تکنیک سے ایک گھنٹے میں مریض کا کامیاب آپریشن ہوگیا، نیوی گیشن آلے کی مدد سے مریض کے چہرے اور سرکے حساس حصوں سے فاسد مادے نکالے گئے، معروف ای این ٹی سرجن ڈاکٹر فصیح اللہ میر نے بتایا کہ پاکستان میں نیوی گیشن تکنیک کے ذریعے سائنیسس جراحی پہلی بارکی گئی ہے جس میں جرمنی کے ماہرین نے بھی حصہ لیا۔



انھوں نے بتایا کہ اس تکنیک کے ذریعے متاثرہ مریض کی ناک کے ذریعے سر اور دماغ تک رسائی حاصل کی جاتی ہے اور اس دوران دماغ کے نازک اور حساس حصوں کو محفوظ رکھنے کیلیے نیوی گیشن آلہ سرجن کی رہنمائی کرتا رہتا ہے دوران جراحی نیوی گیشن سسٹم سرجن کو دماغ کے نازک حصوں تک پہنچنے کی صورت میں الرٹ اور اسکرین پر نشاندہی کرتا اس جدید ترین آلے کی مدد سے دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں حساس نوعیت کی محفوظ سرجریاں کی جارہی ہیں تاہم پاکستان میں پہلی بار نیوی گیشن تکنیک کی مدد سے کامیاب جراحی کی گئی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ نیوی گیشنل فکس اینڈو اسکوپک سائنیسس جراحی پہلی بار کی گئی ہے، سائنیسس کا مرض گالوں کے درمیان ہڈیوں میں انفیکشن سے لاحق ہوتا ہے جو سراور بعض اوقات دماغ تک بھی پہنچ جاتا ہے مسلسل نزلہ وزکام رہنے سے بھی یہ مرض لاحق ہوتا ہے جس سے سانس کی نالی اور ناک کے اندر نازک جھلی میں ورم ہوجاتا ہے جسکے بعد مریض کو سائنیسس کا مرض لاحق ہوتا ہے نئی تکنیک کے ذریعے ناک اور سرکے پوشیدہ اور نازک وحساس حصوں کودوران جراحی اسکرین پر دیکھا بھی جاسکتا ہے۔