کراچی میں آوارہ بچوں کو جرائم پیشہ افراد استعمال کرنے لگے

اسٹریٹ چلڈرن سے گداگری ، جیب تراشی اور چوریاں کرائی جاتی ہیں، آوارہ بچوں کی تفریح کا مقام منی سینما گھر ہیں


Staff Reporter September 17, 2013
اکثر بچے والدین کے تشدد سے بھاگ جاتے ہیں، برمی اور بنگالی بچے اسمگل ہوکر پہنچتے ہیں، آوارہ بچے موذی بیماریوں سے مرجاتے ہیں، فوٹو؛فائل

شہر کی سڑکوں پر آوارہ گھومنے والے بچوں (اسٹریٹ چلڈرن) کو جرائم پیشہ عناصر اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

جرائم پیشہ عناصر ان بچوں کے ذریعے گاڑیوں کے شیشے نکالنے ،موٹر سائیکل، موبائل فون چھیننے کی وارداتیں، مسافر بسوں میں جیبیں کاٹنے اور چوریاں کرنے اور گداگری کا کام کرواتے ہیں،اسٹریٹ چلڈرن کی دو اقسام ہیں ایک وہ جو والدین کی مرضی سے روزی کمانے دوسرے ملکوں اور شہروں سے اسمگل ہوکر آتے ہیں جس میں زیادہ تر بنگالی، برمی اور افغانی بچے ہیں دوسرے وہ پاکستانی بچے جو والدین کی سختی اور تشدد سے گھر چھوڑ کر بھاگ نکلتے ہیں ان بچوں میں مزدوری کے دوران مالکان کے تشدد سے فرار ہونیوالے بچے بھی شامل ہیں اکثر بچے گلیمر کی دنیا کی چمک دمک اور مہنگے موبائل فون اور دیگر سامان آسائش کی وجہ سے چوری کی طرف راغب ہوتے ہیں۔

برمی اور بنگالی بچے جون اور جولائی میں مچھرکالونی اور ابراہیم حید ری میں مچھلی اور جھینگوں کی صفائی کا کام بند ہونے پر کراچی کی سڑکوں پر نظرآتے ہیں شہر میں اسٹریٹ چلڈرن کی آسائش اور تفریح کی بہترین جگہ ہر علاقے میں کھلے ہوئے منی سینما گھر ہیں جن کی تعداد 150 ہے جہاں 15 روپے کی چائے کے ساتھ فحش فلم مفت دکھائی جاتی ہے،ذرائع کے مطابق عیسٰی نگری اور ناظم آباد نمبر 2 میں دکانیں کرائے پر لی گئی ہیں جہاں پیسوں کا لالچ دے کر بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی جاتی ہے اور وہیں بچوں کو شراب اور نشے کا عادی بنادیا جاتا ہے،شہر میں ایک مافیا اسٹریٹ چلڈرن کوکراچی سے کوئٹہ جنسی بنیادوں پر استعمال کے لیے بھیجتی ہے،جہاں ان کو جنسی طور پر استعمال کرکے ماہانہ 15 سے 20 ہزار روپے ادا کیے جاتے ہیں۔



اسٹریٹ چلڈرن کے ساتھ جنسی زیادتی میں پولیس کے علاوہ جنسی بے راہ روی کے شکار افراد بھی شامل ہیں جو معصوم بچوں کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھاکر ان سے جنسی تسکین حاصل کرتے ہیں،سڑکوں پر نظر آنے والے ان آوارہ بچوں کی عمر طویل نہیں ہوتی ان کی روزمرہ خوراک اچھی نہیں ہوتی جس سے ان کی نشونما بہتر نہیں ہوپاتی اور ان سے ہونے والے جنسی فعل یا کاروبار کے باعث یہ بچے مہلک انفیکشن کا شکار ہوجاتے ہیں جن میں ہیپا ٹائیٹس سی،ایچ آئی وی ایڈز، گنوریہ، سفلس جیسی موذی بیماریاں شامل ہیں ان موذی بیماریوں کے لاحق ہونے سے ان معصوم بچوں کی عمر طویل نہیں ہوپاتی اور یہ بچے جان لیوا موذی بیماریوں میں مبتلا ہوکر 10سے 15 سال کی عمر میں ہی مرجاتے ہیں،آوارہ بچوں کی کثیر تعداد غیر معیاری ہیروئن کی زیادہ مقدار کے نشے اور لگاتارصمد بونڈ سونگھنے سے بھی مرجاتے ہیں، اسٹریٹ چلڈرن کی کثیر تعداد ٹھیکیداروں کے ساتھ رہتی ہے جو کمائی کا کچھ حصہ ٹھیکیدار کو دیکر کھانا ہوٹلوں کے باہر سے یا مانگ کر کھاتے ہیں۔

آوارہ بچے ہمارے اسکولوں کا ماحول خراب کردیں گے ، اسکول انتظامیہ
اسکولوں میں اسٹریٹ چلڈرن کی تعلیم کے سلسلے میں بات کی جائے تو نجی اور سرکاری اسکولوں کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ بچے ہمارے اسکول کا ماحول خراب کرینگے ۔

لہٰذا ہم انھیں اسکول میں داخلہ نہیں دے سکتے،اسکولوں کی انتظامیہ کو اس بات کا قطعی احساس نہیں کہ اگر ان آوارہ بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ نہ کیا گیا تو بڑے ہوکر یہ بچے بدمعاش اور جرائم پیشہ عناصر کیلیے ہی کام کرتے نظر آئیں گے، معاشرے کا فرض ہے کہ ان بچوں کے مستقبل کے بارے میں غور کرے۔

پاکستان میں بچوں کی اسمگلنگ کیروک تھام کیلیے قانون سازی نہ ہوسکی
اسٹریٹ چلڈررن، آوارہ بچوں کے تحفظ کی ذمے داری ریاست حکومتی اداروں غیر سرکاری این جی اوز پر عائد ہوتی ہے۔

یہ معصوم اور بے سہارا بچے موم بتی کی مانند ہیں انھیں جس شکل کے سانچے میں ڈالا جائے گا یہ ویسے ہی صورت اختیار کریں گے، عالمی معاہدہ برائے حقوق اطفال کی شق نمبر 35 کے تحت حکومت پاکستان کی ذمے داری ہے کہ بچوں کے اغوا اور اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے خاطر خواہ اقدامت کرے۔