سونے ملکی میدانوں سے کارکردگی پر منفی اثر پڑا مصباح الحق

اپنے ملک میں ہوم کراؤڈ کے سامنے کھیلنے سے اعتماد بڑھتا ہے، جب ٹیم اچھا پرفارم نہیں کرے تو دباؤ کا شکار ہوجاتا ہوں


Sports Desk September 20, 2013
موہالی: مصباح الحق پریس کانفرنس سے خطاب کررہے ہیں، انھوں نے ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ نہ ہونے کو ٹیم کے ناقص کھیل کی وجہ قرار دیدیا۔ فوٹو: سی ایل ٹی ٹوئنٹی

پاکستانی کپتان مصباح الحق ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کے فقدان پر سخت مایوس ہیں، انھوں نے کہا کہ سونے میدانوں کا ٹیم کی کارکردگی پر منفی اثر پڑا۔

اپنے ملک میں ہوم کراؤڈ کے سامنے کھیلنے سے اعتماد بڑھتا ہے، جب ٹیم اچھا پرفارم نہیں کرے تو میں دباؤ کا شکار ہوجاتا ہوں، صرف ایک کھلاڑی کچھ نہیں کرسکتا فتح کیلیے سب حصہ ڈالیں، اس وقت ہمارے بیٹسمینوں کی پرفارمنس زیادہ بہتر نہیں، چیمپئنز لیگ میں فیصل آباد وولفز کو اپنی ناتجربہ کاری کی وجہ سے شکست ہوئی۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے موہالی میں میڈیا سے بات چیت کے دوران کیا۔ مصباح الحق کی قیادت میں پاکستان کرکٹ ٹیم کو حال ہی میں زمبابوے کے ہاتھوں ایک ون ڈے اور ٹیسٹ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا،ان کی ڈومیسٹک چیمپئن سائیڈ فیصل آباد وولفز بھارت میں دونوں ابتدائی میچز ہار کر چیمپئنز لیگ کے مین راؤنڈ کی دوڑ سے باہر ہوگئی۔ مصباح اس کی وجہ ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کے فقدان کو سمجھتے ہیں۔

2009 میں لاہور کے لبرٹی چوک پر دہشتگردوں نے سری لنکن ٹیم پر ایسی گولیاں برسائیں کہ یہاں سے انٹرنیشنل کرکٹ کا ہی جنازہ اٹھ گیا۔ مصباح کا کہنا ہے کہ جب آپ کے ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ باقاعدگی سے کھیلی جائے تو اس کا کرکٹرز پر بھی مثبت اثر پڑتا ہے، اگر میچز نہ ہوں تو پھر آپ پلیئرز کو ایکشن میں ہی نہیں دیکھ پاتے، یہی فرق ہماری اور دوسری ٹیموں کا ہے، اپنے ملک میں کرکٹ کھیلنے سے اعتماد بڑھتا اور بیرون ملک کام آتا ہے۔



مصباح نے انٹرنیشنل بولرز کے سامنے فیصل آباد وولفز کے بیٹسمینوں کے بُری طرح ناکام رہنے سے متعلق کہا کہ اس کی وجہ بھی معیاری کرکٹ کا فقدان ہے، میں پہلے ہی کہہ چکا کہ آپ جتنی زیادہ کرکٹ کھیلیں گے اتنا ہی صلاحیتوں میں نکھار آئے گا، آپ مختلف صورتحال سے نمٹنے کے طریقے سیکھیں گے، بدقسمتی سے پاکستان میں کوئی کرکٹ نہیں ہورہی، ہمیں اس کے بارے میں فوری طور پر سوچنے کی ضرورت ہے، یہاں بھارت میں آئی پی ایل کھیلی جاتی ہے جس میں دنیا بھر کے کرکٹرز آتے ہیں، اس سے مقامی کرکٹرز کو فائدہ ہورہا ہے، وہ لیگ کی بدولت انٹرنیشنل کرکٹ کی تمام ترضروریات کو سمجھ رہے ہیں، ہمیں بھی اپنے ملک میں ایسی ہی ایک لیگ کی ضرورت ہے، مسابقتی ماحول میں کھیلنے سے کھلاڑیوں کو زیادہ فائدہ ہوگا۔

مصباح الحق نے کہا کہ اس وقت پاکستان کرکٹ ٹیم میں بھی بیٹسمین جدوجہد کررہے ہیں، بعض اوقات جب ٹیم اچھا پرفارم نہیں کرتی تو مجھ پر بوجھ بڑھ جاتا ہے، جہاں تک تعلق فیصل آباد وولفز کا تعلق ہے، یہ ایک ناتجربہ کار ٹیم تھی، ہمارے پاس بیٹنگ میں کوئی بڑا نام ہی نہیں ہے، میرے اور سعید اجمل کے سوا باقی سب کھلاڑی ابھی سیکھنے کے مرحلے سے گزررہے ہیں، اس ٹورنامنٹ سے انھیں بہت کچھ سیکھنے کو ملا، میں نے اور سعید اجمل نے یہاں پہنچتے ہی کھلاڑیوں کی ذہنی مضبوطی پر کام کرنے کی کوشش کی کیونکہ جب آپ پہلی بار اتنے بڑے اسٹیج پر کھیل رہے ہوتے ہیں تو کچھ نفسیاتی گرہیں بھی ہوتی ہیں جنھیں دور کرنا ہوتا ہے، ہم یہاں پر مین راؤنڈ کیلیے کوالیفائی تو نہیں کرپائے مگر کھلاڑیوں کو جو تجربہ حاصل ہوا ہے وہ آگے چل کر ان کے کام آئے گا۔