دیرینہ ساتھی ظفربلوچ کے قتل پرعذیرجان اچانک لیاری پہنچ گئے

ساتھیوں کے ہمراہ موٹرسائیکل پرلیاری کادورہ کیا،عذیرجان کی واپسی پرپولیس حکام میں کھلبلی


Staff Reporter September 20, 2013
ساتھیوں کے ہمراہ موٹرسائیکل پرلیاری کادورہ کیا،عذیرجان کی واپسی پرپولیس حکام میں کھلبلی. فوٹو : فائل

DEAUVILLE, FRANCE: پیپلزامن کمیٹی کے سربراہ سردارعذیرجان بلوچ اپنے دیرینہ ساتھی ظفربلوچ کی ہلاکت کی خبر سن کراپنے اہلخانہ کے ساتھ لیاری پہنچ گئے۔

عذیرجان بلوچ نے لیاری پہنچ کرسب سے پہلے اپنے مرکزی ساتھیوں کو نذر اندازکر کے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ موٹرسائیکل پر لیاری کادورہ کیا تاکہ وہاں موجودسب لوگ انھیں دیکھ لیں اور کسی بھی قسم کی منصوبہ بندی کررہے ہوں تو وہ اپنے ارادے ترک کردیں۔ذرائع کے مطابق یہ اطلاع ملنے کے بعدپولیس کے اعلیٰ حکام میں کھلبلی مچ گئی اور وہ عذیر بلوچ کی گرفتاری سے متعلق لائحہ عمل طے کرنے لگے کیونکہ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت ارشدپپوقتل کیس میں عذیرجان بلوچ کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کر چکی ہے۔



اس کے علاوہ ماہ رمضان میں پیپلزامن کمیٹی کے رہنماؤں کی صحافیوں کے اعزاز میں دی جانے والی افطارپارٹی کی تصاویر کی اشاعت کے بعد چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے بھی آئی جی سندھ سے رپورٹ طلب کی تھی کہ وہ وضاحت کریں کہ ایک ایسے ملزم کوجس کے بارے میں عدالت نے وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں ۔

وہ اسی روز شہر میں کیسے کھلے عام تقریبات میں شرکت کررہا ہے ؟؟۔ ذرائع نے بتایا کہ عذیر جان بلوچ گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے کسی سے نہیں ملے تھے جس کے باعث متضاد اطلاعات موصول ہو رہی تھیں ،پولیس اور رینجرز افسران میڈیا کے نمائندوں کو اطلاعات دے رہے تھے کہ عذیر جان اپنے کاروبار کے سلسلے میں بیرون ملک گئے ہیں جبکہ لیاری میں پولیس ذرائع کا کہنا تھا کہ وہ بیرون ملک نہیں گئے اسی شہر میں موجود ہیں،گزشتہ روز لیاری میں دو گروپوں کے حوالے سے خبروں کے نشر ہونے کے بعد اچانک عذیر جان بلوچ کے علاقے میں پہنچنے کی خبریں ملناشروع ہو گئیں ۔