طالبان کا وفد پاکستان پہنچ گیا آج امریکا طالبان مذاکرات متوقع

طالبان نمائندے پاکستان کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کریں گے، افغان امن عمل سمیت متعدد اہم امور پر بات چیت کی جائے گی


ویب ڈیسک October 03, 2019
طالبان نمائندے پاکستان کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کریں گے، افغان امن عمل سمیت متعدد اہم امور پر بات چیت کی جائے گی فوٹو:فائل

امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان زلمے خلیل زاد کے بعد پاکستان کی دعوت پر افغان طالبان کا وفد بھی اسلام آباد پہنچ گیا۔

قطر میں افغان طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے غیر ملکی خبر رساں ادارے کو دورے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ وفد طالبان کی مذاکراتی ٹیم کے سینیئر ارکان پر مشتمل ہے اور اس میں ملا برادر سمیت 11 نمائندے شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ابھی تک دفتر خارجہ کے اعلیٰ حکام سے ملاقات طے ہے، ملا برادر وہیں پر ہوں گے اور اْن کے پاس اختیار ہے کہ کس سے ملیں۔

ذرائع کے مطابق افغان طالبان نے امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان امن زلمے خلیل زاد سے پاکستان میں ملاقات پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ طالبان رہنما زلمے خلیل زاد کی پاکستان آمد سے آگاہ اور ملاقات کے لیے تیار ہیں۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ پاکستان، امن مذاکرات کی بحالی کا خواہاں ہے، افغان مسئلے کے پر امن حل اور خطے میں امن و استحکام کیلئے مذاکرات ہی واحد راستہ ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی دعوت پر طالبان سیاسی کمیشن کا وفد دوحا سے پاکستان پہنچا ہے، طالبان وفد کے دورہ پاکستان سے امریکا، طالبان امن مذاکرات کے تحت اب تک ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لینے میں مدد ملے گی۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد پاکستان پہنچ گئے

دفتر خارجہ کے مطابق طالبان وفد کے دورے میں رکے ہوئے افغان سیاسی حل کی بحالی پر بھی بات چیت کی جائے گی، طالبان وفد کی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی تفصیلات طے کی جارہی ہیں، طالبان وفد کی قیادت سیاسی دفتر کے سربراہ اور سیاسی امور کیلئے طالبان کے سربراہ کے نائب ملا عبد الغنی برادر کریں گے۔ وفد میں ملافاضل اخوند،محد نبی عمری ،عبد الحق وثیق ،خیر اللہ خیر خواہ ،امیر خان متقی، مطیع الحق خالص، عبد السلام حنفی، ضیاء الرحمن مدنی، شہاب الدین دلاور، سید رسول حلیم اور نبراس الحق عزیز شامل ہیں۔

دریں اثناء زلمے خلیل زاد کے وفد میں شامل ایک امریکی اہلکار کا کہنا ہے کہ زلمے خلیل زاد کے دورے کا مقصد نیویارک میں وزیر اعظم عمران خان کے زلمے خلیل زاد اور دیگر امریکی رہنمائوں کے ساتھ مذاکرات کے سلسلے کو آگے بڑھانا ہے۔ اسلام آباد میں سر کاری ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں طالبان اور زلمے خلیل زاد کے درمیان ملاقات کا قوی امکان ہے۔

یاد رہے طالبان کا وفد تین دن تک پاکستان میں رہے گا اور چھ اکتوبر کو قطر واپس چلا جائے گا جب کہ زلمے خلیل زاد بھی تقریباً تین دن تک مزید اسلام آباد میں قیام کریں گے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ امریکا اور طالبان کے درمیان افغان امن معاہدے پر اتفاق ہوگیا تھا اور مذاکرات کامیاب ہونے والے تھے، تاہم پھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے معاہدے پر دستخط کرنے سے انکار کردیا جس کے نتیجے میں پورا امن عمل متاثر ہوگیا۔