قبائلی علاقوں میں ڈھائی لاکھ سے زائد بچے پولیو کے قطرے پینے سے محروم رہ جاتے ہیں رپورٹ

ملک میں تقریبا 60 ہزار والدین نے اپنے بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے پلانے سے انکارکردیا،بی بی سی رپورٹ


ویب ڈیسک October 24, 2013
قبائلی علاقوں میں سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ شمالی وزیرستان ایجنسی کا ہے جہاں سے سب سے زیادہ پولیو کے کیسز سامنے آتے ہیں۔ فوکل پرسن انسداد پولیو مہم خیبر پختونخوا ڈاکٹر امتیاز فوٹو: فائل

پاکستان دنیاکے ان 3 ممالک میں سے ایک ہے جہاں اب بھی پولیو وائرس کا مکمل خاتمہ نہیں کیا جا سکا ہے لیکن اس کے باوجود قبائلی علاقوں میں 2 لاکھ 50 ہزار بچوں کو پولیو کے قطرے نہیں پلائے جا سکے ہیں جبکہ ملک میں تقریبا 60 ہزار والدین نے اپنے بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کر دیا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق خیبر پختونخوا میں انسداد پولیو مہم کے فوکل پرسن ڈاکٹر امتیاز نے بتایا کہ آبادی کے اعتبار سے خیبر پختونخوا اور فاٹا میں سب سے زیادہ پولیو کے مریض سامنے آئے ہیں جو کہ انتہائی تشویشناک صورت حال ہے، قبائلی علاقوں میں شدت پسندی اور فوجی آپریشن کی وجہ سے انسداد پولیو ٹیمیں ان علاقوں میں نہیں جا سکتیں جس وجہ سے ان علاقوں میں کوئی 2 لاکھ 50 ہزار بچے پولیو وائرس کے خاتمے کے قطرے پینے سے محروم رہ جاتے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں تقریبا 35ہزار والدین نے اپنے بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کیا ہے جبکہ یہ تعداد سندھ میں 18 ہزار ، بلوچستان میں 8 ہزار ، پنجاب میں ایک ہزار اور قبائلی علاقوں میں صرف 550والدین نے یہ قطرے پلانے سے انکار کیا ہے۔

ڈاکٹرامتیاز کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں میں سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ شمالی وزیرستان ایجنسی کا ہے جہاں سے سب سے زیادہ کیسز سامنے آئے ہیں اس لیے اب قبائلی علاقوں کے سرحد کے قریب تمام علاقوں میں انسداد پولیو کی مہم شروع کی جا رہی ہے تاکہ ان دنوں میں لوگوں کی جو نقل و حمل ہوتی ہے اس سے وائرس نہ پھیل سکے، سردیوں کے آغاز میں قبائلی علاقوں سے اکثر لوگ نقل مکانی کرکے شہری یا میدانی علاقوں کی جانب آ جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ ملک بھر میں رواں برس اب تک 49بچوں میں پولیو کے وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ قبائلی علاقوں میں اس سال پولیو کے 36 کیسز سامنے آ چکے ہیں، خیبر پختونخوا میں یہ تعداد 7، پنجاب اور سندھ سے 3،3اورصوبہ بلوچستان سے اس سال پولیو کا کوئی مریض سامنے نہیں آیا ہے۔ دوسری جانب پاکستان میں گزشتہ 2 برسوں کے دوران انسداد پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیموں پر حملوں میں بھی تیزی دیکھی گئی ہے جس کی وجہ سے انسداد پولیو مہم کو شدید نقصان اٹھانا پڑا ہے۔