پرویز مشرف کے خلاف غداری کیس کے فیصلے کے اہم نکات

ویب ڈیسک  جمعرات 19 دسمبر 2019
پرویز مشرف نے 2007 میں ایمرجنسی نافذ کیؤ، عدالتی فیصلہ فوٹو: فائل

پرویز مشرف نے 2007 میں ایمرجنسی نافذ کیؤ، عدالتی فیصلہ فوٹو: فائل

 اسلام آباد: خصوصی عدالت نے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ عدالت نے 169 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں فیصلہ انگریزی زبان میں جاری کیا ہے۔

تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جنرل (ر) پرویز مشرف نے سنگین غداری کے جرم کا ارتکاب کیا، ان پر آئین پامال کرنے کا جرم ثابت ہوتا ہے اور وہ مجرم ہیں، لہذا پرویزمشرف کو سزائے موت دی جائے۔

پرویز مشرف کی لاش اور ڈی چوک

قانون نافذ کرنے والے ادارے مجرم کو گرفتار کرکے سزائے موت پرعملدرآمد کرائیں، اگر پرویز مشرف مردہ حالت میں ملیں تو ان کی لاش کو ڈی چوک اسلام آباد میں گھسیٹا جائے اور 3 دن تک لٹکائی جائے۔

پرویز مشرف نے ایمرجنسی نافذ کی

پرویز مشرف نے 2007 میں ایمرجنسی نافذ کی ایمرجنسی کی لفاظی مختلف کرنے سے مارشل لاء لگانے کے اثرات کم نہیں ہوتے۔

مکمل تفصیلی فیصلہ

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔