جب ایک پاکستانی دستے نے کئی گنا بڑی بھارتی فوج کو بے بس کر کے رکھ دیا

جنگ ستمبر1965ء میں سیالکوٹ کے محاذ پر لڑ ے جانے والے غیر معمولی معرکے کی ولولہ انگیز داستان


September 06, 2020
جنگ ستمبر1965ء میں سیالکوٹ کے محاذ پر لڑ ے جانے والے غیر معمولی معرکے کی ولولہ انگیز داستان ۔ فوٹو : فائل

'' انسان کی زندگی اپنی بہادری کے مطابق پھیلتی یا سکڑتی ہے۔''

(فرانسیسی ادیبہ،انا ییزبین)

آج سے ٹھیک پچپن سال قبل 6 ستمبر 1965ء کو مغرور و متکبر بھارتی حکمران طبقے نے تمام تر عسکری طاقت و طمطراق سے ارض پاک پر حملہ کیا تھا ۔ وہ افواج پاکستان کو تر نوالہ سمجھے ہوئے تھا۔ مگر پاسبان وطن نے پاکستانی قوم کے تعاون سے دشمن کو ایسی شکست فاش دی کہ اس کے غرور کا سارا نشہ ہرن ہوگیا۔

اس سترہ روزہ جنگ میں افواج پاکستان کے جوانوں نے کئی محاذوں پر داد شجاعت دی اور دلیری و بہادری کی تاریخ میں نئے باب رقم کیے۔ ایک یادگار باب چونڈہ کے محاذ پر بھی لکھا گیا۔ اس کا تذکرہ آج بھی ہر پاکستانی کے تن بدن میں جذبہ حب الوطنی کا جوش و ولولہ دوڑا دیتا ہے۔ تب صرف ایک ٹینک رجمنٹ کے جیالوں نے اپنے سے دوگنے طاقتور حریف کا راستہ روک کر حملے کا رخ ہی بدل ڈالا۔ دشمن ارض پاک کے بہادر جوانوں سے ایسا خوفزدہ ہوا کہ دبک کر چوہے کی طرح بل میں جاچھپا۔ اس معرکے کی داستان ڈرامائی ہونے کے ساتھ ساتھ ایسی غلط فہمیوں سے بھی عبارت ہے جن کی بابت پڑھ کر آج ہونٹوں پہ مسکراہٹ آجاتی ہے۔

جنگ ستمبر 1965ء دراصل جموں و کشمیر کے مسلمانوں کو آزاد کرانے کی ایک بھرپور کوشش تھی جسے پاکستانی حکمرانوں نے اپنے عوام کی امنگوں اور خواہشات کے مطابق انجام دیا۔ مسلمانان کشمیر پچھلے دو برس سے غیر مسلم حکمرانوں کے ظلم و تشدد کا شکار ہیں۔ ان کے خون کے آنسو رلا دینے والے بدترین حالات دیکھ کر ہی اہل پنجاب نے 1947ء سے قبل کشمیریوں کو ظالم ڈوگروں سے نجات دلانے کی خاطر زبردست تحریک چلائی تھی۔اس کے بعد اہل پاکستان اسلامی یک جہتی اور بھائی چارے کے سدا بہارجذبات لیے کشمیریوں کو آزادی دلانے اپنے سے کہیں زیادہ طاقتور دشمن، بھارت سے بھڑگئے۔

اگست 1965ء سے آزادیِ کشمیر کے لیے افواج پاکستان نے مقبوضہ وادی میں عسکری آپریشن شروع کیے۔ انہوں نے جلد چھمب و جوڑیاں کے قصبے فتح کیے اور اکھنور شہر کی سمت بڑھے۔ بھارتی حکمرانوں کے تو ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ انہیں جموں و کشمیر ہاتھ سے جاتا نظر آیا تو وادی میں پاک افواج کے حملوں کا زور کم کرنے کی خاطر انہوں نے پاکستان پر حملہ کردیا۔چھ ستمبر کی صبح پاکستانی پنجاب کے دو مقامات پر حملے کا آغاز ہوا۔

ایک حملہ لاہور دوسرا پسرورو سیالکوٹ پر ہوا۔ دونوں مقامات پر بھارتی فوج کی نفری پاک فوج کی نسبت کم از کم ڈھائی گنا زیادہ تھی۔ لیکن دونوں محاذوں پر افواج پاکستان کے جوانوں نے ایسی داد شجاعت دکھائی کہ طاقتور دشمن بوکھلا کر رہ گیا۔ لاہور کے محاذ جنگ کی داستانیں کئی کتب میں محفوظ ہیں، آج ہم سیالکوٹ محاذ پر رقم ہوئی ایک داستان سناتے ہیں۔ یہ داستان عیاں کرتی ہے کہ مادر وطن کے دفاع پر کمربستہ افواج پاکستان کے جوان اپنی جان ہتھیلی پر لیے پھرتے اور ہمہ وقت اسے قربان کرنے کو تیار رہتے ہیں۔

ہیڈمرالہ سے جسڑپل تک

سیالکوٹ کا محاذ دریائے چناب پر واقع ہیڈمرالہ سے دریائے راوی پر بنے جسڑپل تک پھیلا ہوا تھا۔ ان دونوں کے مابین تقریباً ایک سو تیرہ کلو میٹر فاصلہ ہے۔ دونوں مقامات کے درمیان سیالکوٹ، نارووال ،شکر گڑھ اور پسرور اہم پاکستانی شہر ہیں۔ علاقے کے دفاع کی ذمے داری پاک فوج کے 15 انفنٹری ڈویژن اور ٹینک دستے، 6 آرمرڈ ڈویژن کے سپرد تھی۔15 ڈویژن چار بریگیڈ...24، 101، 104 اور 115 پر مشتمل تھا۔ تین بریگیڈ ایک ایک ٹینک رجمنٹ رکھتے۔

(ایک ٹینک رجمنٹ میں 44 ٹینک تھے)۔ایک بریگیڈ میں ٹینکوں کا ایک اسکوارڈن(14 ٹینک)تعنیات تھا۔ 6 آرمرڈ ڈویژن دو ٹینک رجمنٹ پر مشتمل تھا۔ اس کی تیسری رجمنٹ چھمب کے علاقوں میں تعینات پاکستانی ڈویژنوں کے ساتھ تھی۔15 ڈویژن کے کمانڈر بریگیڈیر سردار محمد اسماعیل خان اور 6 آرمرڈ ڈویژن کے میجر جنرل ابرار حسین تھے۔ سیالکوٹ سیکٹر میں پاک فوج کی کل تعداد 40 سے 50 ہزار کے مابین تھی۔ ہر بریگیڈ توپ خانے کی ایک یا دو بیٹریاں بھی رکھتا۔ ایک بیٹری میں چار سے بارہ کے مابین چھوٹی بڑی توپیں ہوتی ہیں۔

سیالکوٹ سیکٹر میدانی علاقہ ہے۔ اس میں جابجا کھیت کھلیان پھیلے ہیں۔ ندی نالوں اور نہروں کا جال بھی بچھا ہے۔ زمین نم ہے مگر اتنی نہیں کہ اس پر ٹینک نہ چل سکیں۔ اسی لیے پاک فوج کی ہائی کمان کو یقین تھا کہ بھارتی اس جگہ سے ٹینک و توپیں لیے حملہ آور ہوسکتے ہیں۔ ہائی کمان کو سب سے زیادہ تشویش ''سیاہ ہاتھی'' کی طرف سے تھی۔



یہ بھارتی فوج کا سب سے مضبوط 1 آرمرڈ ڈویژن تھا جو ''فخر ہند'' بھی کہلاتا۔ اس کی آٹھ ٹینک رجمنٹوں میں مشہور زمانہ دی پونا ہارس اور دی 4 ہڈسن ہارس بھی شامل تھیں۔اس 1 آرمرڈ ڈویژن کا سربراہ میجر جنرل راجندر سنگھ تھا جسے عرف عام میں سپیرو (چڑیا) کہا جاتا۔ پاکستانی ہائی کمان کا خیال تھا کہ یہ آرمرڈ ڈویژن جنگ کی صورت حال بدل دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

تین ڈویژن انفنٹری یا پیدل فوج کا ایک گروہ ''کور'' کہلاتا ہے۔ محاذ لاہور پر بھی دو پاکستانی ڈویژن دفاع پر مامور تھے۔ ان کے مقابلے میں بھارتی پوری ایک کو ر لے آئے۔ سیالکوٹ پر بھی بھارتی فوج نے ایک کور کا حملہ کر ایا مگر یہ زیادہ شدید تھا کیونکہ اس کے ساتھ 1آمرڈ ڈویژن بھی تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بھارتی وزیر آباد اور گوجرانوالہ کے درمیان جی ٹی روڈ تک پہنچ کر پاکستان کو دو حصوں میں تقسیم کرنا چاہتے تھے۔ اس سڑک پر قبضے سے دونوں حصوں کے مابین نقل و حمل ختم ہو جاتی۔ تب بھارتی فوج کے لیے اسلام آباد یا لاہور کا رخ کرنا بھی آسان ہو جاتا۔ غرض یہ ایک خطرناک حملہ تھا جس کو بھارتی کمانڈروں نے ''آپریشن نیپال'' کا نام دیا۔

بھارتی جرنیلوں کی چالیں

سیالکوٹ سیکٹر میں حملہ آور بھارتی فوج کی کل تعداد سوا لاکھ سے ڈیڑھ لاکھ کے مابین تھی۔ اس فوج میں ٹینکوں کی تعداد کم از کم 450تھی ۔1 آرمرڈ ڈویژن آٹھ ٹینک رجمنٹس رکھتا تھا۔ جبکہ دو بھارتی ڈویژنوں کے ساتھ بھی ا یک ایک ٹینک رجمنٹ نتھی تھی۔ تمام بھارتی ڈویژنوں کے بریگیڈ اور بٹالین توپ خانے بھی رکھتی تھیں۔6 ستمبر کی صبح جسڑ پل سے پرے کھڑی بھارتی توپیں پاکستانی پوزیشنوں پر گولے داغنے لگیں۔ یہ پل انگریزوں نے دریائے راوی پار کرنے کی خاطر بنایا تھا۔ اس کے نزدیک ہی گردوارہ کرتاپور واقع ہے۔ اس علاقے کا دفاع بریگیڈیر مظفر الدین کی کمان میں 115 بریگیڈ کے سپرد تھا۔

بریگیڈ دو بٹالینوں ' ایک ٹینک رجمنٹ اور دو توپ خانہ بیٹریوںپر مشتمل تھا۔جلد ہی ایک بریگیڈ بھارتی فوج نے جسٹر پل پار کرتے ہوئے ارض پاک یہ دھاوا بول دیا۔ تاہم پاکستانی جوانوں نے دلیری سے مقابلہ کیا اور انہیں پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔بریگیڈیر مظفر کا خیال تھا کہ بھارتی فوج نے اسی راہ سے حملہ کرنا ہے۔ لہٰذا انہوں نے ڈویژن ہیڈ کوارٹر یہ اطلاع بھجوا دی جو وہاں سے ہوتی جی ایچ کیو (جنرل ہیڈ کوارٹر)راولپنڈی پہنچی۔ اس وقت 6آرمرڈ ڈویژن گوجرانوالہ کے نزدیک نندی پور میں تعینات تھا۔ جی ایچ کیو نے فوراً اسے پسرور پہنچنے کا حکم دیا۔7 ستمبر کی صبح بھارتی فوج نے دوبارہ جسڑ پل سے حملہ کیا۔ اس بار بھی وہ پسپا ہوئے۔

اسی دوران پاک فوج نے دھماکے سے پل اڑا دیا۔ یوں کچھ عرصے کے لیے محاذ جنگ پر خاموشی چھا گئی۔ مگر بریگیڈیئر مظفر کو یقین تھا کہ بھارتی کشتیوں کا پل بنا کر حملہ کریں گے۔ انہوںنے یہ خبر بھی جی ایچ کیو بھجوا دی اور کمک کی درخواست کی۔ اس وقت 24 بریگیڈ چونڈہ میں تعینات تھا۔ یہ دو بٹالین ' ایک ٹینک رجمنٹ اور ایک توپہ خانہ بیٹری رکھتا تھا۔ جی ایچ کیو نے اسے 115 بریگیڈ کا سہارا بننے بھجوا دیا۔



سات ستمبر کی رات دس بجے 24 بریگیڈ جسٹر پل کے نزدیک پاکستانی پوزیشنوں پر پہنچا۔ لیکن وہاں تو لڑائی تقریباً ختم ہو چکی تھی۔ تبھی جی ایچ کیو کو احساس ہوا کہ جسڑ پر حملہ دشمن کی چال بھی ہو سکتی ہے اور حقیقت بھی یہی تھی ۔دراصل بھارتی کورنے مع 1 آمرڈ ڈویژن ہیڈ مرالہ اور جسڑ پل کے درمیان واقعہ سرحدی گاوں' چارواہ سے حملے کا منصوبہ بنا رکھا تھا۔ یہ گاؤں جسڑ سے 55کلو میٹردور ہے۔

چارواہ اور پسرور کے درمیان سبز پیر' چوبارہ' گدگوڑ' پھلورہ اور چونڈہ کے قصبے و دیہات واقع تھے۔ چارواہ سے پسرور تک کا فاصلہ 35کلو میٹر ہے۔پاک افواج کو مزید چکمہ دینے کے لیے سات ستمبر کی رات ساڑھے گیارہ بجے بھارتی فوج کا 26 انفنٹری ڈویژن آنولہ شریف گاؤں سے سیالکوٹ پرحملہ آور ہوا۔ یہ گاؤں ہیڈ مرالہ سے 37 کلو میٹر دور ہے۔

گویا بھارتی فوج نے ایک حملہ دائیں اور د وسرا بائیں طرف سے کیا۔ 26 انفنٹری ڈویژن کا بنیادی کام یہ تھا کہ وہ سیالکوٹ شہر کے دفاع پر مامور پاکستانی 101 بریگیڈ کو اپنی جگہ سے ہلنے نہ دے۔ یہ بھارتی ڈویژن آٹھ بٹالین پیدل فوج اور ایک ٹینک رجمنٹ رکھتا تھا۔ جبکہ پاکستانی بریگیڈ کی صرف دو بٹالینیں اور ایک ٹینک رجمنٹ تھی۔ گویا دونوں کا آپس میں کوئی مقابلہ ہی نہیں تھا۔ 26 ڈویژن نے پاکستانی سرحدی دیہات پر آسانی سے قبضہ کر لیا۔

چارواہ کے راستے حملہ

سات ستمبر کی رات ہی بھارتی فوج کے 6ماؤنٹین ڈویژن اور 14 انفنٹری ڈویژن نے 1 آرمرڈ ڈویژن کے ساتھ چارواہ کے قرب جوار سے پاکستان پر حملہ کر دیا۔ جیسا کہ بتایا گیا' اسی علاقے میں 24بریگیڈ تعینات تھا جسے جسڑ بھجوا دیا گیا۔ تاہم بریگیڈ کمانڈر' عبدالعلی خان ایک بٹالین فوج اور ایک ٹینک اسکواڈرن (14ٹینک) وہیں چھوڑ گئے تھے۔

ایک بٹالین اور ایک ٹینک اسکواڈرن کا تین ڈویژن فوج سے کوئی مقابلہ ہی نہ تھا۔ اسی لیے بھارتی فوج نے بہت جلد پاکستانی دستے کو چونڈہ کی جانب پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔سات ستمبر کی رات دو بجے 24 بریگیڈ نے واپس چونڈہ کی سمت سفر شروع کیا۔ وہ صبح چھ بجے اپنی منزل پر پہنچا جب آٹھ ستمبر کا سورج طلوع ہو رہا تھا ۔ مسلسل سفر سے تھکے ہارے فوجی سستا ہی رہے تھے کہ خبر ملی' بھارتی فوج نے چارواہ کے راستے حملہ کر دیا۔ تب پاکستانیوں کو خبر نہیں تھی کہ یہ بھارتی فوج کا مرکزی و بنیادی حملہ ہے۔



بھارتی فوج کا پلان یہ تھا کہ آٹھ ستمبر کو پھلورہ اور چونڈہ پر قبضہ کر لیا جائے۔وہاں مستقر بنا کر سیالکوٹ،وزیر آباد اور گوجرانوالہ کی سمت پیش قدمی کرنا مقصود تھا۔ دشمن کے اس حملے نے 24 بریگیڈ کے ہیڈ کوارٹر میں قدرتاً سراسمیگی پھیلا دی۔ اطلاع تھی کہ بھارتی فوج کے ساتھ ٹینک بھی ہیں۔ نیز اسے توپ خانے کی مدد بھی حاصل ہے۔

گویا بھارتی فوج نے دس کلومیٹر تک پھیلے اس محاذ پر خاصا بڑا حملہ کیا تھا۔ تب پاکستانیوں کو علم نہ تھا کہ اس محاذ پر مشہور زمانہ 1 آرمرڈ ڈویژن مع 6ماؤنٹین ڈویژن اور 14 انفنٹری ڈویژن حملہ آور ہوا ہے۔24بریگیڈ کے سبھی جوان تھکے ہوئے تھے مگر دفاع وطن کے جذبے نے ان میں نئی توانائی بھر دی۔ بریگیڈ کے ساتھ نتھی ٹینک رجمنٹ'' 25کیولری ''کہلاتی تھی۔ اس کے کمانڈر لیفٹیننٹ نثار علی خان تھے۔ اب بریگیڈیر عبدالعلی خان اور نثار علی خان کے مابین مشاورت ہوئی۔ بریگیڈ میں توپوں کی تعداد بہت کم تھی۔ البتہ تقریباً چوالیس ٹینک موجود تھے۔ گویا اب یہی ٹینک پیش قدمی کرتی بھارتی فوج کا راستہ روک سکتے تھے۔ اسی لیے عبدالعلی خان نے عارضی طور پر کمان اپنے ساتھی' نثار علی خان کے سپرد کر دی تاکہ وہ جنگی پلان تشکیل دے سکیں۔

پاکستان کا منہ توڑ جواب

نثار علی خاں 28 مارچ 1920ء کو ریاست پٹیالہ کے قصبے' بستی پٹھانہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے اجداد بھی فوجی تھے۔ مارچ 1943ء میں ریاستی فوج کا حصہ بنے۔ 1947ء میں پاک فوج کا حصہ بننے کو ترجیح دی۔ ٹینک رجمنٹ ''20 لانسر'' میں تھے کہ جون1962ء کو انہیں ایک نئی ٹینک رجمنٹ، 25 کیولری کھڑی کرنے کی ذمے داری سونپی گئی۔

انہوں نے بڑی محنت اور جانفشانی سے یہ نئی رجمنٹ تشکیل دی۔ پاک فوج سے جی دار ا ور محنتی جوان و افسر چن کر اپنے گرد جمع کر لیے۔ یہ جوان اپنے کمانڈر پر جان چھڑکتے اور ان کا ہرحکم سر آنکھوں پر رکھتے تھے۔ جوانوں سے گہری و دلی قربت نے بھی اس انقلابی دن اپنا کردار ادا کیا۔ان کو پیار سے ''نثار کاکا''کہا جاتا تھا۔

قبل ازیں بتایا گیا کہ عبدالعلی خان اور نثار علی خان' دونوں دشمن کی اصل نفری سے ناواقف تھے۔ حقیقت یہ تھی کہ بھارتی 1 آرمرڈ ڈویژن کی تین رجمنٹوں نے پھلروہ پر دھاوا بولا تھا۔ وہ کل 130ٹینکوں پر مشتمل تھی۔ ادھر صرف 44 پاکستانی ٹینک یعنی ان کا سامنا تین گنا بڑے حریف سے تھا۔ دشمن کی نفری سے لا علم نثار علی خان نے تب ایک عسکری چال چلنے کا فیصلہ کیا... انہوں نے اپنے ٹینک پورے محاذ پر پھیلا دیئے۔ یوں وہ دشمن پر تاثر دینا چاہتے تھے '' بیٹا جی، زیادہ خوشیاں منانے کی ضرورت نہیں' اس علاقے میں بھی پاک فوج کے کثیر التعداد فوجی ' ٹینک اور توپیں موجود ہیں۔''

نثار علی خان نے پہلے تو جیپ میں سوار ہو کر محاذ کا جائزہ لیا۔ دور انہیں دھوئیں کے بادل اٹھتے دکھائی دیئے۔ تب بھارتی ٹینک پاکستانی بستیوں میں خالی گھروں پر چاند ماری کر رہے تھے ۔ انہوںنے پھر اپنا ایک اسکواڈرن میجر محمد احمد کی زیر قیادت چارواہ کی سمت بھجوا دیا۔ ساڑھے سات بجے دوسرا اسکواڈرن دائیں سمت اور ساڑھے گیارہ بجے بائیں طرف تیسرا اسکواڈرن بھجوایا گیا۔اس تیسرے دستے کی قیادت وہ خود کر رہے تھے۔

یوں 25 کیولری کے تقریباً سبھی ٹینک دس گیارہ کلو میٹر کے رقبے پر پھیل گئے۔ چند ٹینک پیچھے بطور ریزرو رکھے گئے۔یہ عیاں ہے کہ نثار علی خان نے میدان جنگ میں زبر دست بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بڑھتے دشمن پر حملہ کرنے کی پالیسی اپنا لی ورنہ ایسے مواقع پر عموماً دفاعی اقدامات کیے جاتے ہیں۔ مگر نثار علی خان نے اپنے سبھی ٹینک آگے دشمن کا سامنا کرنے کی خاطر بھیج دیئے۔ اسی عسکری چال کو بعدازاں بھارت کے نامی گرامی جرنیلوں نے اپنی کتب میں سراہا اور اسے بہترین و زبردست قرار دیا۔



پونے نو بجے پاک فضائیہ کے شاہینوں نے پیش قدمی کرتے بھارتیوں پر بم برسائے۔ اس بمباری سے ٹینکوں کو خاص نقصان نہیں پہنچا تاہم بھارتی قافلہ ایک گھنٹے تک رکنے پر مجبور ہو گیا۔ یہ وقت تینوں پاکستانی اسکواڈرنوں کے لیے بہت قیمتی ثابت ہوا کیونکہ انہوں نے مطلوبہ علاقوں تک پہنچ کر پوزیشنیں سنبھال لی۔دس بجے سب سے پہلے میجر محمد احمد کے ا سکواڈرن کا گدگوڑ کے مقام پر بھارتی ٹینکوں سے سامنا ہوا۔ جلد ہی فریقین کے مابین لڑائی چھڑ گئی۔

اس لڑائی میں بھارتیوں کے دو سب سے اگلے ٹینک پاکستانی گولے لگنے سے تباہ ہو گئے۔ پاکستانیوں نے تاک تاک کر گولے مارے اور مزید بھارتی ٹینک برباد کر ڈالے۔اس پہلے مقابلے کے دوران میجر محمد احمد نے زبردست دلیری دکھائی۔ وہ اپنے ٹینک کے کھلے منہ پر بیٹھ کر اپنے جوانوں کی ہمت بندھاتے رہے۔ ان کی رہنمائی میں پاکستانی ٹینکوں کے توپچی کئی بھارتی ٹینک تباہ کرنے میں کامیاب رہے۔ دوران لڑائی ایک بھارتی گولہ ان کے ٹینک کو لگا اور وہ جل اٹھا۔ میجر محمد احمد اور ٹینک کا دیگر عملہ آگ میں جھلس گیا۔ تاہم میجر محمد دوسرے ٹینک میں منتقل ہو گئے اور زخموں کی پروا کیے بغیر اپنے جوانوں کی کمان کرتے رہے۔

اس طرح گدگوڑ پر پاکستانی اسکوارڈن نے پیش قدمی کرتے بھارتی ٹینکوں کو روک لیا۔گیارہ بجے بھارتیوں نے نیا حملہ کیا۔ اس دفعہ بھارتی ٹینکوں کی کمان ایک مسلمان میجر شریف نامی کر رہا تھا۔ اب دوبارہ آمنے سامنے لڑائی ہوئی۔ میجر شریف پاکستانی گولہ لگنے سے مارا گیا۔ کمانڈر کھونے کے باعث یہ بھارتی حملہ بھی ناکام رہا۔25 کیولری کے بقیہ دو اسکواڈرن گدگوڑ کے دائیں بائیں واقع علاقوں تھروہ منڈی اور روڑ کی کلاں میں تعینات تھے۔ ان جگہوں پر بھی پاکستانی ا ور بھارتی ٹینکوں کی دو بدو جنگ ہوئی۔ دراصل علاقے میں گنے کے کھیت لگے ہوئے تھے۔ اسی لیے کھیت ٹینکوں کو چھپا لیتے اور وہ دور سے نظر نہ آتے۔ پھر پچاس سال قبل عسکری دور بینیں بھی اتنی طاقتور اور نفیس نہیں تھیں کہ کھیتوں میں چھپے ٹینک دیکھ لیتیں۔ اسی لیے جب حریفوں کے ٹینک قریب آ جاتے' تو ان کی مڈ بھیڑ ہوتی۔

چوہا آگے بلی پیچھے

گدگوڑ کے دائیں بائیں واقع علاقوں میں بھی لڑائیوں کے دوران پاکستانی جوانوں نے حملہ آور بھارتی ٹینک تباہ کر دیئے۔ آٹھ اکتوبر کو پھلورہ پر حملہ آور بھارتی ٹینکوں کی مہم کا سربراہ بریگیڈیر کھیم کرن سنگھ تھا۔ بھارتی مورخین لکھتے ہیں کہ اس دن دوپہر ایک بجے تک کھیم کرن نفسیاتی طور پر شکست خوردہ انسان بن چکا تھا۔ سوا سو سے زائد ٹینکوں اور کم از کم تین ہزار فوجیوں کا کمانڈر ہوتے ہوئے وہ ایک چھوٹے سے پاکستانی قصبے پر قبضہ نہیں کر سکا۔ اس حملہ آور فورس کو توپوں کی مدد بھی حاصل تھی۔بریگیڈیر کھیم کرن کا خیال تھا کہ دشمن (پاکستان) کی کم از کم دو ٹینک رجمنٹیں میدان میں ہیں۔

بعض مقامات سے اسے پاکستانیوں کے حملہ کرنے کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں۔حقیقت میں ان مقامات پر بھارتی دستے ہی آپس میں لڑ پڑے تھے۔ دراصل حملہ آور بھارتی فوج بیسیوں ٹینکوں پر مشتمل تھی۔ اسی لیے دو مقامات پر غلط فہمی کے باعث بھارتی دستوں نے ایک دوسرے پر ہی گولہ باری کر دی۔ اس سے توپیں اور گاڑیاں تباہ ہو گئیں۔دوپہر دو بجے کھیم کرن نے اپنے د ستوں کو پیچھے آنے کا حکم دیا اور سبز پیر کے مقام پر دفاعی لائن قائم کر لی۔ اس طرح 8 ستمبر کے یادگار دن پاک فوج کی صرف ایک ٹینک رجمنٹ نے بھارتیوں کے پورے آرمرڈ ڈویژن اور دوانفنٹری ڈویژن کو ضلع سیالکوٹ کے کھیتوں میں تگنی کا ناچ نچا دیا اور انہیں پھلورہ پر قبضہ کرنے نہیں دیا۔ یہ ناقابل فراموش کارنامہ دو عوامل کی بنا پر وجود میں آیا۔

اول یہ کہ 25 کیولری کے کمانڈر' لیفٹیننٹ کرنل نثار احمد خان نے نہایت خطرناک صورتحال میں اوسان بحال رکھے۔ یہی نہیں انہوں نے بے مثال ذہانت اور حاضر دماغی کا ثبوت دیا اور ٹینک دس کلو میٹر چوڑے محاذ جنگ کے اسٹرٹیجک مقامات پر کھڑے کر دیئے۔ دوم 25 کیولری کے ہر افسر اور جوان نے کمال دلیری و شجاعت کا مظاہرہ کیا۔ یقیناً وہ جانتے تھے کہ دشمن کہیں زیادہ طاقتور ہے مگر انہوںنے اپنی جانوں تک کی پروا نہیں کی اور اس سے مردانہ وار جا بھڑے ۔ ان کے زبردست جوش و جذبے ہی نے حقیقتاً بھارتیوں کو بھیگی بلی کی طرح راہ فرار اختیار کرنے پر مجبور کر دیا۔لازوال دلیری دکھانے پر خاتمہ ِجنگ پہ 25 کیولری نے پانچ ستارہ جرات اور دس تمغہ جرات پا کر تاریخ رقم کر دی۔کمانڈر بری فوج،جنرل موسی خان نے کیولری کے جوانوں و افسروں کو ''مردان ِآہن''(Men of Steel)کا خطاب دیا۔

بھارتی جرنیلوں کا خراج تحسین

8 ستمبر کو ایک پاکستانی ٹینک رجمنٹ کے ہاتھوں اپنی تین ڈویژن فوج کی عبرت ناک شکست پر مختلف بھارتی عسکری ماہرین نے اپنی کتب میں اظہار خیال کیا ہے۔چند سال قبل لیفٹیننٹ جنرل تیجندر سنگھ شیر گل اور کیپٹن امریندر سنگھ کی لکھی کتاب''Monsoon War: Young Officers Reminisce: 1965 India-Pakistan War'' شائع ہوئی۔ (کیپٹن امریندر سنگھ آج کل بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ ہیں)۔ انہوں نے کتاب میں 8 ستمبر کا معرکہ بیان کیا اور لیفٹیننٹ کرنل نثار احمد خان کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے انہیں ایک بہادر اور پیشہ ور سپاہی قرار دیا ۔کتاب میں درج ہے:

''لیفٹیننٹ کرنل نثار احمد خان اپنی غیر مطبوعہ آپ بیتی میں لکھتے ہیں:شام چھ بجے تک حملہ پسپا کر دیا گیا۔ ہمارے ٹینک بھی واپس اپنے مستقر پہنچ گئے۔ ہم پھر ''ٹرافیوں '' کی تلاش میں گدگوڑ پہنچے۔ وہاں کئی تباہ شدہ ٹینک موجود تھے۔ بعض کے تو انجن بھی چل رہے تھے۔(ٹینکوں کی تلاشی کے بعد) ہمیںایک ٹینک سے چند دستاویزات ملیں۔ انہی سے حملے کا بھارتی پلان افشا ہوا۔ تب ہمیں پتا چلا کہ ہمارا سامنا ایک آرمرڈ ڈویژن سمیت دو انفنٹری ڈویژن فوج سے تھا۔''

سیالکوٹ سیکٹر پر پہلے ہی دن تاریخی شکست سے بھارتی فوج کے مورال پر ایسی کڑی ضرب لگی کہ بھارتی فوجی افسر ''دو روز'' تک سکتے کے عالم میں رہے اور اپنے زخم چاٹتے رہے۔ ان دو روز کے دوران پاکستان کے جی ایچ کیو نے مزید ٹینک' توپیں اور پیدل فوج سیالکوٹ سیکٹر میں بجھوا دی۔ یوں حملہ آور بھارتی فوج کے لیے مقابلہ پہلے جتنا آسان نہیں رہا۔بھارتی لیفٹیننٹ جنرل ہربخش سنگھ اپنی کتاب''In the Line of Duty: A Soldiers Remembers''میں لکھتا ہے:''(حملہ آور)بھارتی پاک فوج کے دفاعی ٹینک دستے( 25کیولری) کی حقیقی طاقت کا اندازہ نہیں کر سکے اور انھوں نے چالیں چلنے میں مہارت نہیں دکھائی۔

بھارتی فوج آسانی سے پاکستانی ٹینکوں کو بائی پاس کرتے ہوئے پھلورہ اور چونڈہ تک پہنچ سکتی تھی۔پاکستانی ٹینکوں کا درمیانی فاصلہ اچھا خاصا تھا۔مگر اس سنہرے موقع سے فائدہ نہیں اٹھایا گیا۔8ستمبر کو ہم چارواہ پہ قبضہ کرنے کے بعد صرف مذید چار میل آگے بڑھ سکے۔جبکہ ہم چونڈہ تک باآسانی پہنچ سکتے تھے۔یوں اچانک حملے سے جو فتح مل سکتی تھی،وہ (حماقتوں اور سستی کے سبب)ہمیشہ کے لیے کھو دی گئی۔(اس دن مارکھانے کے بعد)ہم انتشار زدہ حالت میں اگلے حملے کی تیاری کر رہے تھے تو دشمن نے موقع سے فائدہ اٹھایا اور میدان جنگ میں کمک بھجوا دی۔''

میجر جنرل گرچرن سنگھ سندھو اپنی کتاب ''The Indian Cavalry''میں لکھتا ہے:''حملے کا پہلا دن بھارتی فوج کے لیے تباہ کن ثابت ہوا۔پاکستانی ٹینکوں کے صرف دو تین اسکوارڈنوں نے ہماری پوری سپاہ کا راستہ روک لیا۔ہم چند کلومیٹر ہی آگے بڑھ پائے۔اس دن ہار کا بدترین نتیجہ یہ تھا کہ حملہ آور فوج کے کمانڈروں کے اعصاب شل ہو گئے اور حواس مختل ۔انھیں پھر نیا حملہ کرنے میں 48گھنٹے لگ گئے۔اس وقفے کے دوران پاکستانیوں نے اپنا دفاع مذید مضبوط کر ڈالا۔یوں 1آرمڈ ڈویژن نے جو اہداف اچانک حملے سے حاصل کرنے تھے،انھیں پانے میں ناکام رہا۔''

8ستمبر کے بعد دو دن تک بھارتی فوج اپنے مورچوں میں دبکی پاکستانی پوزیشنوں پہ گولہ باری کرتی رہی اور کوئی خاص لڑائی نہیں ہوئی۔بھارتیوں نے پھر 11ستمبر کو نیا حملہ کیا۔اس دوران پاکستان 6آرمڈ ڈویژن کو چونڈہ لے آیا۔اس محاذ پر نئی ٹینک رجمنٹس بھی پہنچا دی گئیں۔یوں مقابلہ تقریباً برابر ہو گیا گو اب بھی دشمن کے ٹینک اور توپیں زیادہ تھیں۔10ستمبر کو سیالکوٹ سیکٹر کی کمان میجر جنرل ابرار حسین کے حوالے کر دی گئی۔وجہ یہ کہ اس علاقے میں حقیقی لڑائی بھارتی 1آرمڈ ڈویژن اور پاکستانی 6آرمرڈ ڈویژن کے مابین تھی۔ یہی وجہ ہے11ستمبر سے جنگ بندی (23ستمبر)تک پھلورہ سے چونڈہ تک پھیلے علاقے میں دونوں آرمرڈ ڈویژنوں کے ٹینکوں کے درمیان کئی زوردار معرکے ہوئے۔

دونوں کی سپاہ نے کارہائے نمایاں دکھانے کی بھرپور کوششیں کیں مگر پاکستانیوں کا پلّہ بھاری رہا۔یہ دوسری جنگ عظیم میں لڑے گئے معرکہ کورسک کے بعد ٹینکوں کی سب سے بڑی لڑائی تھی۔اس لڑائی میں بھارتی اپنے 120ٹینکوں سے محروم ہو گئے۔جبکہ پاکستان کے 44ٹینک تباہ ہوئے۔

اس یادگار معرکے کی خصوصیت یہ ہے کہ بھارتی فوج نے11ستمبرکو آخر عددی برتری کے بل بوتے پر پھلورہ پہ قبضہ کر لیا۔اس کے بعد مگر وہ جنگ بندی تک سر توڑ کوشش کے باوجود چونڈہ پر قبضہ نہیں کر سکی۔اس قصبے کا دفاع کرتے ہوئے ٹینکوں اور توپوں پہ مامور پاکستانی جوانوں اور پیدل فوجیوں نے بھی جانیں قربان کر دیں مگر وہاں دشمن کو قدم نہیں دھرنے دئیے۔چونڈہ کی لڑائی اتنی زبردست اور نشیب و فراز سے پُر تھی کہ اس کی تفصیل پڑھتے ہوئے رگ وپے میں سنسنی دوڑ جاتی ہے۔جس قوم کے جوان ایسے جی دار،جان ہتھیلی پہ رکھ کر لڑنے والے اور بے خوف ہوں،اسے دنیا کی بڑی سے بڑی سپرپاور بھی شکست نہیں دے سکتی۔پاکستان زندہ باد،افواج پاک زندہ باد۔