دلیپ کمار کے آبائی گھر کی خریدو فروخت پر پابندی

دلیپ کمار نے آخری بار 1988 میں اپنے آبائی گھر کا دورہ کیا تھا


ویب ڈیسک October 07, 2020
بحالی نو منصوبے کے تحت دلیپ کمار کے گھر کو اصل شکل میں محفوظ کرنے کے لئے اسے میوزیم میں تبدیل کیا جائے گا۔ فوٹوفائل

خیبرپختونخوا حکومت نے پشاور کے قصہ خوانی بازار میں قائم بالی ووڈ کے لیجنڈ اداکار دلیپ کمار کے گھر کی خریدوفروخت پر پابندی عائد کردی۔

خیبرپختونخوا حکومت نے دلیپ کمار کے گھر کو خرید کر اسے اصل شکل میں محفوظ رکھنے کے لیےمیوزیم میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ محمود خان کے معاون خصوصی برائے اطلاعات کامران بنگش نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ پشاور کی ضلعی انتظامیہ نے دلیپ کمار کے گھر پرسیکشن 4 نافذ کردیا ہے جس کے تحت اداکار کے چار مرلہ آبائی گھر کی خریدو فروخت پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پشاور والے گھر کا وہ کمرہ آج بھی یاد ہے جہاں خواتین نماز پڑھتی تھیں، دلیپ کمار

کامران بنگش کا کہنا ہے کہ پہلے مرحلے میں حکومت دلیپ کمار کا مکان خریدے گی جس کے لیے فنڈز کا انتظام کیا گیا ہے۔ جب کہ دوسرے مرحلے میں گھر کی تزئین و آرائش کی جائے گی اور اسے اصل شکل میں بحال کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا پشاور بحالی نو منصوبے کے تحت دلیپ کمار کے گھر کو اصل شکل میں محفوظ کرنے کے لئے اسے میوزیم میں تبدیل کیا جائے گا۔



بعد ازاں پشاور شہر کی تاریخ اور دلیپ کمار کی بھارتی فلم انڈسٹری میں خدمات کو اجاگر کرنے کے لیے اسے عام عوام کے لیے کھولا جائے گا۔

واضح رہے کہ دلیپ کمار 11 دسمبر 1922 کو پشاور کے قصہ خوانی بازار کے قریب محلہ خداداد میں واقع اسی گھر میں پیدا ہوئے، اس گھر کوگودام کے طور پر استعمال کیا جارہا تھا تاہم خیبرپختونخوا حکومت نے اسے اپنی تحویل میں لے لیاہے۔ دلیپ کمار نے آخری بار 1988 میں اپنے آبائی گھر کا دورہ کیا تھا۔ اس گھر میں دلیپ کمار نے اپنا بچپن گزارا ہے۔