سلیم مانڈوی والا سینیٹ کے پلیٹ فارم کو اپنے مفاد میں استعمال نہ کریں شہزاد اکبر

نیب قوانین پر اپوزیشن مسودے کا ہرحرف این آراو سے بھرا ہوا ہے، معاون خصوصی احتساب


ویب ڈیسک December 23, 2020
نیب قوانین پر اپوزیشن مسودے کا ہرحرف این آراو سے بھرا ہوا ہے، معاون خصوصی احتساب. فوٹو: فائل

معاون خصوصی احتساب شہزاد اکبر کا کہنا ہے کہ دپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا اگر منتخب ہوئے ہیں تو پلیٹ فارم کو اپنے مفاد میں استعمال نہ کریں۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے معاون خصوصی احتساب شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کی پیدائش کیسے ہوئی اس پر بات کرنا چاہوں گا، فیٹف کی جانب سے مالیاتی نظام میں شفافیت کے اہداف دیئے گئے، اہداف کے حصول کیلئے قانون سازی کی ضرورت تھی جس کیلئے اپوزیشن سے تعاون مانگا، فیٹف چاہتا تھا کہ نظام میں شفافیت اور احتساب ہو جب کہ اپوزیشن چاہتی تھی کہ ان کی ماضی کی لوٹ مار اور غیر قانوی اقدامات پر معافی مل جائے، اپوزیشن کہتی ہے کہ فیٹف پر ترامیم منظور کریں تو ووٹ دیں گے، اپوزیشن کا نیب قوانین میں 34 ترامیم کے لیے مسودہ معافی مانگنے کی کوشش ہی تھی، ان کی ترامیم پر دستخط کر دیتے تو شہبازشریف اور آصف زرداری کے کیس ختم ہو جاتے۔

شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ اپوزیشن نے فیٹف کو متنازع بنایا اور بے بنیاد باتیں کیں، نیب قوانین پر اپوزیشن مسودے کا ہرحرف این آراو سے بھرا ہوا ہے، جن اپوزیشن افراد نے ترامیم لکھیں وہ تمام نیب کے ملزمان ہیں، ان سب کے 1985ء سے پہلے کے اثاثے دیکھ لیں، یہ کہتے ہیں 1999ء سے اثاثے دیکھے جائیں،شہزاداکبر یہ این آراو نہیں تو کیا ہے، یہ کہتے ہیں ایک ارب سے کم کا کیس ہو تو نیب نہ پکڑے، یہ غیرقانونی پیسے اور اثاثوں پر معافی چاہتے ہیں، یہ چاہتے تھے کہ نااہلی کی سزا دس سال سے کم کرکے پانچ سال کر دی جائے، انہوں نے بارگیننگ کی بہت کوشش کی لیکن حکومت نے انکار کر دیا، جس کے بعد ہم پر پی ڈی ایم نازل ہوئی، یہ پوری طرح ایکسپوز ہو چکے کہ یہ چاہتے کیا ہیں، ان کا ایجنڈا صرف این آراو ہے۔

معاون خصوصی نے کہا کہ اداروں کو دھمکانا رکن پارلیمنٹ کے شایان شان نہیں، حکومت اس کی اجازت نہیں دے گی اور بھرپور جواب دے گی۔

ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا کے نیب پر الزامات کے حوالے سے شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کوعہدہ قانون سازی کیلئےملا، یہ عہدہ ذمہ دارانہ ہے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کو دھمکیاں نہیں دینی چاہیے تھیں، آپ اگر منتخب ہوئے ہیں تو پلیٹ فارم کو اپنے مفاد میں استعمال نہ کریں۔