کراچی میں رینجرز کی گاڑی کے قریب دھماکا ایک اہلکار شہید

ابتدائی تحقیقات کے مطابق دھماکا خیز مواد موٹر سائیکل میں نصب کیا گیا، ایس ایس پی ویسٹ


Staff Reporter/ March 15, 2021
پولیس اور رینجرز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات کا آغاز کردیا ۔ فوٹو : پی پی آئی

اورنگی ٹاؤن میں نامعلوم افراد کی جانب سے رینجرز کی گاڑی نزدیک دھماکے کے نتیجے میں ایک اہلکار شہید اور 3 زخمی ہوگئے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق ایس ایس پی ویسٹ سہائے عزیز کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق اورنگی ٹاون میں دھماکا نصب شدہ بم سے کیا گیا۔ ممکنہ طور پر بارودی مواد موٹر سائیکل میں نصب تھا۔

دھماکے کے نتیجے میں کے نتیجے میں رینجرز کا ایک اہلکار شہید ہوگیا جب کہ حملے میں 3 افراد زخمی بھی ہوئے جنہیں طبی امداد کے لیے قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا۔



قبل ازیں پولیس کا کہنا تھا کہ اورنگی ٹاؤن نمبر 5 کے قریب قانون نافذ کرنے والے ادارے کی گاڑی پر نامعلوم افراد کی جانب سے کریکر حملہ کیا گیا جس سے قانون نافذ کرنےو الے ادوروں کو دو موبائل زد میں آئیں، ملزمان موٹرسائیکل پر تھے اور کریکر بم پھینک کر فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے بعدازاں ایس ایس پی ویسٹ نصب شدہ مواد سے دھماکے کی تصدیق کی۔

دوسری جانب پولیس اور رینجرز کی نفری جائے واقع پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔

دھماکے میں استعمال کی گئی موٹر سائیکل سی پی ایل سی کے ریکارڈ کے مطابق کلیئر ہے اور اس سے قبل کسی بھی کرائم میں استعمال نہیں ہوئی ہے۔


دھماکے میں پانچ کلوگرام تک مواد استعمال ہوا

موٹر سائیکل ناظم آباد کے علاقے مجاہد کالونی کے رہائشی شخص کی ہے جس کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی اور اسے حراست میں لے لیا گیا ہے۔بم ڈسپوزل اسکواڈ کا کہنا ہے کہ واقعے میں چار سے پانچ کلو گرام دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا جس میں بڑی تعداد میں بال بیئرنگ بھی شامل تھے، دھماکے کے نتیجے میں موٹر سائیکل کے پرخچے اڑگئے۔

دھماکے کی کئی سی سی ٹی وی فوٹیجز حاصل ہوگئیں

دھماکے کے مقام کی متعدد سی سی ٹی وی فوٹیجز حاصل کرلی گئیں، تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ دھماکے سے کچھ دیر قبل ہی دو مشکوک افراد بارود سے بھری موٹر سائیکل کو پارک کرتے دکھائی دے رہے ہیں اور وہ پارک کرتے ہی سڑک کی دوسری جانب سے آتے ہوئے ایک رکشا میں بیٹھ کر وہاں سے نکل جاتے ہیں۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمان قریب ہی موجود تھے کیونکہ جیسے رینجرز کی موبائل بارود سے بھری موٹر سائیکل کے قریب پہنچی تو اس کی رفتار چونکہ پہلے ہی دھیمی تھی تو ریموٹ کنٹرول کے ذریعے دھماکا کردیا گیا، شبہ ہے کہ واقعے میں دو سے زائد ملزمان شریک تھے۔

فوٹیجز میں دھماکا ہوتے ہی آگ کے شعلے بھی بلند ہوتے دکھائی دے رہے ہیں، یہ مقام چونکہ انتہائی ہجوم والی جگہ ہے لہٰذا دھماکے کے فوری بعد ہر طرف بھگدڑ مچ جاتی ہے اور فوٹیجز میں لوگ محفوظ پناہ گاہ کی جانب بھاگتے دوڑتے دکھائی دے رہے ہیں۔

یاد رہے کہ اس سے قبل بھی متعدد بار کراچی میں موٹر سائیکلوں کے ذریعے بم دھماکے کیے جاچکے ہیں جن میں شارع قائدین فلائی اوور، اورنگی ٹاؤن، قائد آباد اور دیگر علاقے شامل ہیں۔

زخمیوں کی تعداد 16 ہوگئی

زخمی ہونے والے مزید 4 افراد کو رات گئے عباسی شہید اسپتال منتقل کردیا گیا جس کے بعد دھماکے کے زخمیوں کی مجموعی تعداد 16 ہوگئی۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مذکورہ افراد کو دھماکے کے فوری بعد ابتدائی طبی امداد کے لیے قریبی مختلف نجی اسپتال اور کلینکس لے جایا گیا تھا جس کے بعد انھیں رات گئے عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا، زخمیوں میں محبوب، عرفان، فاروق سلیم اور اکبر شامل ہیں۔