ہزاروں جیلی فش سندھ و بلوچستان کی ساحلی پٹی پر پہنچ گئیں

ساحلی مقامات پرآنیوالی جیلی فش رزوسٹوما پلمو نسل کی ہیں جن کومقامی زبان میں جنگلی فش کہا جاتاہے،معظم خان


Staff Reporter March 23, 2021
ساحلی مقامات پران دنوں آنیوالی جیلی فش روایتی جیلی فش کی طرح زہریلی نہیں ہے، معظم خان ۔ فوٹو: فائل

سندھ وبلوچستان کی ساحلی پٹی پر ہزاروں کی تعداد میں جیلی فش پہنچ گئیں۔

کورونا وبا کے باعث بیرون ملک ایکسپورٹ بند ہونے کے سبب جیلی فش ساحل پرآرہی ہیں،جیلی فش کی دیگراقسام کے مقابلے میں زہریلی نہیں ہیں تاہم چھونے والے فردکو ہاتھوں اورآنکھوں میں جلن محسوس ہوسکتی ہے۔

سندھ وبلوچستان کے ساحلی مقام گڈانی، سومیانی،سینڈزپٹ اورکیوآئی لینڈ جبکہ شہر کے مختلف جزائرپر جیلی فش کی تعداد میں بے انتہا اضافہ ہورہا ہے۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف کے ٹیکنیکل ڈائریکٹرمعظم خان کے مطابق پاکستانی ساحلی مقامات پر آنے والی جیلی فش رزوسٹوما پلمونسل کی ہیں جن کو مقامی زبان میں جنگلی فش کہا جاتا ہے، اس نسل کی جیلی کی لگ بھگ 50اقسام پائی جاتی ہیں،''ریزوسٹوما پلمو''نسل کی جیلی فش کو نمک اور پھٹکری لگاکر چائنا ایکسپورٹ کیا جاتا ہے،کوروناوبا کی وجہ سے اس کی ایکسپورٹ بند ہے،ماہی گیراس نسل کی جیلی فش کا شکارنہیں کررہے۔

معظم خان کے مطابق ساحلی مقامات پران دنوں آنیوالی جیلی فش روایتی جیلی فش کی طرح زہریلی نہیں ہے البتہ اس کو پکڑنے سے ہاتھوں اور آنکھوں میں شدید جلن محسوس ہوسکتی ہے۔