میمن گوٹھ شادی کے نام پر ملزم نے لڑکی سے اجتماعی زیادتی کیعلاقہ مکین

چند مشکوک افراد کے بیانات قلمبند، متاثرہ خاندان خوف زدہ، پولیس سے کسی نے رابطہ نہیں کیا، تفتیش ازخود شروع کردی، پولیس


Staff Reporter April 09, 2021
چند مشکوک افراد کے بیانات قلمبند، متاثرہ خاندان خوف زدہ، پولیس سے کسی نے رابطہ نہیں کیا، تفتیش ازخود شروع کردی، پولیس (فوٹو : فائل)

کراچی میمن گوٹھ میں 14 سالہ لڑکی سے اجتماعی زیادتی کے کیس میں پولیس نے چند مشکوک افراد کو حراست میں لے کر بیان قلم بند کرلیا اور علاقہ مکینوں سے مدد مانگ لی۔

ایس ایچ او میمن گوٹھ خالد عباسی کے مطابق 14 سالہ لڑکی سے چار افراد کی زیادتی کے معاملے کی خبر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد پولیس نے ازخود کارروائی کرتے ہوئے 3 سے 4 روز قبل مشکوک افراد کو حراست میں لے کر بیان قلم بند کیا تاہم متاثرہ لڑکی کے منظر عام پر نہ آنے کے باعث پولیس نے علاقہ معززین سے بھی اس معاملے پر مدد مانگ لی۔

لڑکی سے مبینہ زیادتی کے معاملے پر علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ ملزم نے متاثرہ لڑکی سے شادی کا وعدہ کیا تھا، ملزم کے ایک رشتے دار نے لڑکی کو فون پر تنگ کرنا شروع کیا۔

علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ ملزم نے 4 رشتے داروں کے ساتھ مل کر لڑکی کو اغوا کیا، چاروں ملزمان نے لڑکی کے ساتھ زیادتی کی اور ویڈیو بھی بنائی، متاثرہ خاندان خوف زدہ ہے اور پولیس کے پاس جانے کے لیے تیار نہیں۔

ایس ایس پی ملیر عرفان بہادر کا کہنا ہے کہ لڑکی سے زیادتی سے متعلق کسی نے پولیس سے رابطہ نہیں کیا، واقعے سے متعلق انکوائری کا آغاز کردیا گیا ہے۔