پائلٹس نے جعلی لائسنس کیسے حاصل کیے، سول ایوی ایشن نے سپریم کورٹ کو بتا دیا

ویب ڈیسک  جمعـء 14 مئ 2021
دو سینیئر ڈائریکٹرز کو برطرف کردیا ہے، سول ایوی ایشن، (فوٹو: فائل)

دو سینیئر ڈائریکٹرز کو برطرف کردیا ہے، سول ایوی ایشن، (فوٹو: فائل)

 اسلام آباد: سول ایوی ایشن نے پائلٹس کے جعلی لائسنس کے حوالے سے تحقیقاتی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرادی جس میں ہوشربا انکشافات کیے گئے ہیں۔ 

ایکسپریس نیوز کے مطابق سپریم کورٹ میں سول ایوی ایشن کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بدعنوانی کے مرتکب دو سینئر جوائنٹ ڈائریکٹر لائسنس برطرف کو کیا گیا ہے۔ ان افسران نے پائلٹس کو امتحانی سسٹم تک غیرقانونی رسائی دی جس پران کے خلاف ایف آئی اے میں فوجداری مقدمات بھی درج ہیں۔

رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ سول ایوی ایشن نے فراڈ کے مرتکب 54 میں سے 32 پائلٹس کے لائسنس معطل کیے، اسکروٹنی کے دوران پی آئی اے نے 30 پائلٹس کی غلط معلومات فراہم کیں۔ پائلٹس نے امتحان میں اپنی جگہ کسی اور کو بٹھایا جب کہ دیگر بے ضابطگیاں بھی سامنے آئیں۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ دستاویز کے مطابق جس دن پائلٹ یحیحیٰ مصور نے امتحان دیا اُس وقت وہ فلائٹ پر تھے جب کہ 2 پائلٹس امتحان کے روز ملک میں موجود ہی نہیں تھے۔ اسی طرح پائلٹ شوکت محمود نے عید الاضحی کے روز امتحان دیا جب کہ 28 پائلٹس نے ہفتہ وار چھٹی کے روز امتحان دیا۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔