وزیر مذہبی امور کی حج کی خبروں سے متعلق وضاحت

حج سے متعلق میڈیا پر آنے والی خبریں سعودی وزارت صحت کی سفارشات ہیں، سعودیہ نے ابھی ان سفارشات پر حتمی فیصلہ نہیں کیا


ویب ڈیسک May 23, 2021
حج سے متعلق میڈیا پر آنے والی خبریں سعودی وزارت صحت کی سفارشات ہیں، سعودیہ نے ابھی ان سفارشات پر حتمی فیصلہ نہیں کیا (فوٹو: انٹرنیٹ )

وزیر مذہبی امور نور الحق قادری نے کہا ہے کہ حج سے متعلق میڈیا پر آنے والی خبریں سعودی وزارت صحت کی صرف سفارشات ہیں، سعودی حکومت نے ابھی ان پر حتمی فیصلہ نہیں کیا، حتمی فیصلے کے بعد ہی حج پالیسی کا اعلان کیا جائے گا۔

وزیر مذہبی امور نور الحق قادری کا سعودی وزیر حج و عمرہ سے ٹیلی فون پر رابطہ ہوا جس کے بعد وفاقی وزیر نے عوام کے لیے وضاحتی ویڈیو بیان جاری کیا ہے۔

اپنے بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ میری ذمہ داری بنتی ہے کہ اصل حقائق سے عوام کو آگاہ کروں، سعودی وزارت حج نے ابھی حجاج کی تعداد اور ایس او پیز پر کوئی فیصلہ نہیں کیا، سعودی حکومت نے ابھی تک حج 2021ء سے متعلق حتمی پالیسی جاری نہیں کی۔

انہوں نے کہا کہ سعودی حکومت حتمی فیصلے سے قبل پاکستان کو اعتماد میں لے گی، عازمین کی تعداد اور حتمی ایس او پیز ابھی طے ہونا باقی ہیں، حج سے متعلق میڈیا پر آنے والی خبریں سعودی وزارت صحت کی سفارشات ہیں، سعودی حکومت نے ابھی ان سفارشات پر حتمی فیصلہ نہیں کیا، سعودی حکومت کی جانب سے حتمی فیصلے کے بعد حج پالیسی کا اعلان کیا جائے گا۔

وضاحتی بیان سے پہلے میڈیا پر آنے والی خبر

وفاقی وزیر مذہبی امور نورالحق قادری کا کہنا ہے کہ رواں برس حج کے خواہش مند عازمین سعودی ہدایات کے مطابق اپنی تیاری جاری رکھیں۔

وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نورالحق قادری کا کہنا ہے کہ سعودی حکومت نے کورونا احتیاطی تدابیر کے تحت حج 2021 کے لیے 60 ہزار عازمین حج کی تعداد مقرر کر دی ہے، 15 ہزار حجاج لوکل جب کہ 45 ہزار حجاج باقی ملکوں سے حج کی سعادت حاصل کریں گے، امید ہے کہ 45 ہزار میں سے پاکستانی حجاج کو بھی کوٹہ ملے گا لہذا حج 2021 کے خواہشمند عازمین ہدایات کے مطابق اپنی تیاری جاری رکھیں۔

یہ بھی پڑھیں : سعودی حکومت کا غیرملکی افراد کو حج کی اجازت دینے کا فیصلہ

نورالحق قادری نے کہا کہ سعودی حکومت نے اعلان کے ساتھ 9 صفحات پر مشتمل احتیاطی تدابیر اور شرائط جاری کی ہیں جس کے مطابق عمر کی حد 10 تا 90 سال اور مطلوبہ جسمانی صحت کا سرٹیکفیٹ لازمی ہوگا جب کہ مستند کورونا ویکسین سرٹیفیکیٹ اور پی سی آر کا نیگٹو ٹیسٹ بھی لازمی قرار دیا گیا ہے، اس کے علاوہ پاکستان نے سعودی حکومت سے چینی ویکسین کو قبول کرنے کی درخواست کی ہے۔