انسداد پولیو رضا کاروں کے قتل کی تحقیقات الزام تراشیوں کی نذر

انسداد پولیو ٹیم بغیر کسی اطلاع اور سیکیورٹی کے فیلڈ میں چلی گئی، پولیس، ملزمان جلد گرفتار کر لیں گے، منیر احمد شیخ


Staff Reporter January 23, 2014
پولیس کو پولیو مہم شروع ہونے سے قبل ہی باضابطہ طور پر اطلاع دی جاتی ہے، خواتین صحت رضا کار انجمن کا موقف ۔ فوٹو: محمد عظیم/ایکسپریس،فائل

KARACHI: انسداد پولیو مہم کی2 خواتین سمیت3 رضا کاروں کے قتل کی تحقیقات الزام تراشیوں کی نذرہو گئی پولیس کا کہنا ہے کہ جاں بحق اور زخمی پولیو رضا کار بغیر بتائے میں فیلڈ (علاقے ) میں گئے جس کے باعث افسوسناک واقعہ ہوا ۔

جبکہ خواتین صحت رضا کار انجمن (لیڈی ہیلتھ ورکرز ایسویسی ایشن) کی رہنمائوں کا کہنا ہے کہ پولیس کو پولیو مہم شروع ہونے سے قبل ہی باضابطہ طور پر اطلاع دی جاتی ہے، اس کے باوجود رضا کاروں کوتحفظ فراہم نہ کرنا غیر ذمے داری کی مثال ہے، تفصیلات کے مطابق منگل کو کورنگی صنعتی ایریا تھانے کی حدود قیوم آباد میں انسداد پولیو ٹیم کی 2 خواتین سمیت 3رضا کاروں کے قتل کی تحقیقات کرنے والے ایک پولیس افسر بتایا کہ انسداد پولیورضا کاروں کی ٹیم پر قاتلانہ حملہ کرنے والے 6 ملزمان3 موٹر سائیکلوں پرسوار تھے جن میں سے موٹر سائیکل سوار2 ملزمان بیک اپ پر موجود تھے اور انھوں نے علاقے کی سر گرمیوں میں نظر رکھی ہوئی تھی،ملزمان نے پہلے قیوم آباد کی مختلف گلیوں کا چکر لگا کر صورتحال کا اندازہ لگایا اور اس کے بعد 2 موٹر سائیکلوں پر4ملزمان نے دونوں گلیوں میں بیک وقت انسداد پولیو ورکرز کو نشانہ بنایا،انھوں نے بتایا کہ اسے شواہد مل رہے کہ علاقے میں انتہا پسند اور ملک دشمن عناصر کی آماج گاہ بن رہا ہے، انھوں نے بتایا کہ پولیس کوشش کر رہی ہے پولیو ورکرز کے قتل میں ملوث ملزمان کے خاکے جلد سے جلد تیار کیے جائیں۔



دوسری جانب سے ڈی آئی جی ایسٹ منیر احمد شیخ کا کہنا ہے کہ پولیس کوشش کر رہی ہے کہ جلد از جلد ملزمان کا سراغ لگایا جائے، انھوں نے بتایا کہ انسداد پولیو مہم کے افسران سے ہونے والے اجلاسوں میں یہ بات طے ہوئی تھی کہ انسداد پولیو ورکرز کی ٹیمیں اس وقت تک فیلڈ میں نہیں جائیں گی جب تک انھیں سیکیورٹی فراہم نہیں کی جاتی لیکن گزشتہ روز انسداد پولیو ٹیم بغیر کسی اطلاع اور سیکیورٹی کے فیلڈ میں چلی گئیں، انھوں نے بتایا کہ اگر پولیو ورکرز کی ٹیموں کو سیکیورٹی فراہم نہیں کی جا رہی تھی تو جیسا کہ اجلاسوں میں طے کیا گیا تھا کہ اعلیٰ پولیس افسران کو شکایت کی جانی چاہیے تھی لیکن جس روز واقعہ ہوا کہیں کوئی ایسی شکایت درج نہیں کرائی گئی، لیڈی ہیلتھ ورکرز ایسوسی ایشن کے رہنمائوں کا کہنا ہے کہ پولیس کو پولیو مہم شروع ہونے سے قبل ہی متعلقہ اداروں اور افسران کی جانب سے باضابطہ طور پر اطلاع دی جاتی ہے جس کے بعد پولیس اور پولیوورکرز مل کر مہم کے حوالے سے لائحہ عمل طے کرتے ہیں اس کے باوجود انسداد پولیو ورکرز کو سیکیورٹی فراہم نہ کرنا انتہائی غیر ذمے داری کی اعلیٰ مثال ہے۔