کوئٹہ کے سرکاری اسپتالوں کی انجیوگرافی مشینیں خراب عوام پریشان

مشینیں خراب ہونے سے عوام نجی اسپتالوں سے مہنگی انجیو گرافی کرانے پر مجبور ہوگئے ہیں


ویب ڈیسک September 11, 2021
مشینیں خراب ہونے سے عوام نجی اسپتالوں سے مہنگی انجیو گرافی کرانے پر مجبور ہوگئے ہیں۔(فوٹو: انٹرنیٹ)

QUETTA: کوئٹہ کے دونوں بڑے سرکاری ہسپتالوں کی انجیوگرافی مشینیں کئی ماہ سے خراب، مریض نجی اسپتالوں سے انجیو گرافی کرانے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق کوئٹہ کے دونوں بڑے سرکاری اسپتالوں سول اور بولان میڈیکل کمپلیکس (بی ایم سی) کی انجیو گرافی مشینیں 3 ماہ سے خراب ہیں، جس کی وجہ سے عوام نجی اسپتالوں سے مہنگی انجیو گرافی کرانے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ اس بارے میں اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مشینوں کی درستگی کے لیے متعلقہ حکام کو خط لکھ چکے ہیں، ان کی مرمت پر ایک کروڑ 80لاکھ روپے پر خرچہ آئے گا۔

سول اسپتال کے میڈیکل سپریٹینڈینٹ ڈاکٹر جاوید کا کہنا تھا کہ مشینیں خرابی ہونے سے نہ صرف مریض بلکہ اسپتال کا عملہ بھی پریشان ہے۔ سول اپستال کی اینجیو گرافی مشین گزشتہ 3 ماہ سے خراب ہے اور اس حوالے سے محکمہ صحت کو ایک سمری بھی لکھی گئی ہے جس میں ان سے مشینیوں کی مرمت کرانے کی درخواست کی گئی ہے۔

دوسری جانب سول اور بی ایم سی میں علاج کی غرض سے آنے والے مریض اور ان کے تیمار دار پریشان ہیں کہ کب مشینیں درست ہوں گی اور کب انہیں نجی طور پر انجیو گرافی کرانے کی بجائے سرکاری طور پر انجیو گرافی کرانے کی سہولت میسر ہو گی۔