مری میں کمرہ عدالت سے اغوا کیا گیا جوڑا بازیاب

واقعے کا مقدمہ دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج ، 10 افراد گرفتار


ویب ڈیسک September 30, 2021
پولیس نے پسند کی شادی کرنے والی لڑکی کو دارالامان بھجوادیا فوٹو: فائل

پولیس نے مری میں کمرہ عدالت سے اغوا کئے گئے نوبیاہتا جوڑے کو بازیاب کرکے ان کے اغوا میں شامل کچھ ملزمان کو حراست میں لے لیا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق مری کی عدالت میں گزشتہ روز پسند کی شادی کرنے والا جوڑا بیان دینے پہنچا تھا، اس موقع پر درجنوں افراد عدالت سے جوڑے کو اٹھا کر لے گئے تھے، سوشل میڈیا پر واقعے کی وڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس حرکت میں آئی اور نوبیاہتا جوڑے کو کجوٹ کے مقام سے بازیاب کراکر اپنی تحویل میں لے لیا۔



ایس پی صدر کامران عامر اور اے ایس پی مری مغوی کی بازیابی کے آپریشن کی خود نگرانی کرتے رہے، ایس کامران عامر نے کہا کہ واقعے کا مقدمہ دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے، مقدمے میں اب تک 10 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، گرفتار ملزمان میں عبدالمنان، عبدالمتین، زیاب، حامد، قمر زمان، شاہ ذیب، آصف، نصیر، عدنان اور ناصر شامل ہیں، قانون کو ہاتھ میں لینے کی اجازت کسی کو نہیں دی جا سکتی، واقعے میں ملوث تمام افراد کو گرفتار کر کے قرارواقعی سزا دلوائی جائے گی، ملزمان کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان عدالت کیا جائے گا۔




دوسری جانب پولیس نے پسند کی شادی کرنے والی لڑکی کو دارالامان بھجوادیا ہے ، جہاں سے اس نے وڈیو بیان جاری کیا ہے جس میں اس نے کہا ہے کہ میرا نام قرۃ العین ہے اپنی مرضی سے نعمان سے نکاح کیا ہے، مجھے کسی نے اغواء نہیں کیا، میں اور نعمان عدالت میں بیان دینے گٰے تھے، میرے رشتہ داروں نے وہاں آکر بدتمیزی کی، مجھے اور نعمان کو اٹھا کر لے گئے وہاں اگر پولیس وقت پر نہ پہنچتی تو مجھے مار دیا جاتا، مری پولیس کی شکر گزار ہوں کہ وقت پر پہنچ کر مجھے چھڑوا لیا۔