حکمرانوں کو ملنے والے تحائف ان کے نہیں عوام کے ہیں اسلام آباد ہائی کورٹ

حکومت دیگر ممالک سے ملنے والے تحائف نہ بتا کر کیوں شرمندہ ہورہی ہے، عدالت


ویب ڈیسک October 13, 2021
حکومت کیوں تمام تحائف کو میوزیم میں نہیں رکھتی؟ بیرون ممالک میں تو یہ ہوتا ہے، عدالت۔ فوٹو:فائل

عدالت کا کہنا ہے کہ حکومت دیگر ممالک سے ملنے والے تحائف نہ بتا کر کیوں شرمندہ ہورہی ہے؟ حکمرانوں کو ملنے والے تحائف ان کے نہیں بلکہ عوام کے ہیں۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں توشہ خانہ ریفرنس کی سماعت ہوئی، وفاقی حکومت نے ایک بار پھر وزیر اعظم عمران خان کو ملنے والے تحائف حوالے سے بتانے یا نہ بتانے کے کے لئے عدالت سے مہلت مانگ لی۔ عدالت کا کہنا تھا کہ اگر کوئی دفاعی تحفہ ہو بے شک نہ بتائیں لیکن ہر تحفے کو پبلک کرنے پر پابندی کیوں ہے۔

جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ اگر کسی ملک نے ہار تحفے میں دیا تو پبلک کرنے میں کیا حرج ہے؟، حکومت دیگر ممالک سے ملنے والے تحائف نہ بتا کر کیوں شرمندہ ہورہی ہے؟، حکمرانوں کو ملنے والے تحائف ان کے نہیں بلکہ عوام کے ہیں، اگر کوئی عوامی عہدہ نہ ہو تو کیا عہدوں پر بیٹھے لوگوں کو تحائف ملیں گے؟۔

عدالت نے کہا کہ حکومت کیوں تمام تحائف کو میوزیم میں نہیں رکھتی؟ بیرون ممالک میں تو یہ ہوتا ہے، حکومت کو تو چاہیے گزشتہ دس سالوں کے تحائف پبلک کردے، حکومت یہ بھی بتائے کہ کتنے تحائف کا ایف بی آر سے تخمینہ لگوایا ؟۔ عدالت نے وفاقی حکومت کی استدعا پر سماعت ملتوی کردی۔