بیکٹیریا کے خلاف 100 گنا مؤثر حیاتیاتی شیشہ

ایسٹن یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے میٹل آکسائیڈ نینو ذرات سے بنا شیشہ پیش کیا ہے جو حیاتیاتی طور پر سرگرم ہے


ویب ڈیسک February 28, 2022
ایسٹن یونیورسٹی کے ڈاکٹر رچرڈ مارٹن 100 گنا طاقتور بیکٹیریا کش شیشے کے ساتھ اپنی تجربہ گاہ میں مسرور دکھائی دے رہے ہیں۔ فوٹو: ایسٹن یونیورسٹی

RAWALPINDI: اگرچہ ہم جراثیم اور بیکٹیریا کُش لباس، پٹیوں اور دیگر سرجیکل آلات کی ایجادات دیکھ چکے ہیں لیکن برطانیہ کی ایسٹن یونیورسٹی میں ان سے بھی 100 گنا طاقتور اینٹی بیکٹیریئل شیشہ تیار کیا گیا ہے۔

ایسٹن یونیورسٹی پروفیسر رچرڈ مارٹن اور ساتھیوں نے بایوایکٹوو گلاس بنایا ہے جس میں کوبالٹ، جست اور تانبے کے آکسائیڈز پر مبنی نینوذرات الگ الگ یا ایک ساتھ شامل کئے جاسکتے ہیں۔

تجرباتی طور پر تمام دھاتی آکسائیڈز کو پیس کر باریک ذرات میں ڈھالا گیا اور انہیں 24 گھنٹوں کے لئے ای کولائی، اسٹیفیلوکوکس اوریئس اور کینڈیڈا ایبی کانس نامی فنگس پر ڈالا گیا تو یہ مجموعہ تمام اقسام کے بیکٹیریا کش ادویہ اور ایجادات سے بھی سو فیصد مؤثر ثابت ہوا۔ اس نے بہت تیزی سے بیکٹیریا اور جراثیم کے مجموعے کو تباہ کردیا۔

اگلے مرحلے میں دھاتی آکسائیڈز کے نینوذرات کو جب شیشے میں ملایا گا تو اس کی سطح بیکٹیریا اور جراثیم کش بن گئی۔ اس اہم اختراع کے بعد اب طبی آلات، ہسپتالوں اور تجربہ گاہوں کے شیشوں، برتنوں اور دیگر اشیا کو جراثیم اور بیکٹیریا کش بنانے میں مدد مل سکے گی۔

مقبول خبریں