بوری بند لاشوں کا سلسلہ بند نہ ہواتوآئین اورقانون کے مطابق کارروائی کریں گے چیف جسٹس

اگر بوری بند لاشوں کا سلسلہ بند نہ ہوا تو آئین اور قانون کے تحت کارروائی کریں گے


ویب ڈیسک September 12, 2012
اگر بوری بند لاشوں کا سلسلہ بند نہ ہوا تو آئین اور قانون کے تحت کارروائی کریں گے. فوٹو فائل

چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ نے کہا ہے کہ بوری بند لاشوں کا سلسلہ بند نہ ہوا تو آئین اورقانون کے مطابق کارروائی کریں گے۔

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس دوست محمد اور جسٹس مسز ارشاد قیصر پر مشتمل ڈویزن بنچ نے کیس کی سماعت کی، عدالت نے اٹارنی جنرل کے پیش نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ کوئی سیاسی معاملہ نہیں، انسانی جانوں کا معاملہ ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ صوبائی اور وفاقی دونوں حکومتیں شہریوں کو تحفظ نہیں دے سکتیں تو حکمرانی کیوں کر رہی ہیں، کیوں نہ دونوں حکومتوں کو غیر قانونی قرار دے دیا جائے،عدالت نے ہدایت کی کہ پولیس میں سفارشی اور نااہل افسروں کو فوری طور پر تبدیل کیا جائے، اس موقع ایس ایس پی انوسٹی گیشن نے بیان دیا کہ ابھی تک کسی بوری بند لاش کا سراغ نہیں لگایا جا سکا۔

چیف جسٹس جسٹس دوست محمد نے کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت کو 16 اگست کو متنبہ کیا تھا لیکن افسوس کی بات ہے کہ نہ کوئی اجلاس ہوا اور نہ تحقیقات کی گئیں، صوبائی اور وفاقی حکومتیں عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنائیں، اگر بوری بند لاشوں کا سلسلہ بند نہ ہوا تو آئین اور قانون کے تحت کارروائی کریں گے، کیس کی مزید سماعت 27 ستمبر تک ملتوی کر دی گئی۔