پختونخوا محکمہ صحت میں دستانوں کی خریداری میں کروڑوں روپے کی کرپشن کا انکشاف

63 کروڑ 83 لاکھ روپے کے دستانے خریدے گئے، کوئی اسٹاک ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس کو موصول نہیں ہوا، اسٹور کیپر لاعلم


ویب ڈیسک August 21, 2024
(فوٹو: فائل)

خیبر پختونخوا کے محکمہ صحت میں دستانوں کی خریداری میں کروڑوں روپے کی کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔


محکمہ صحت کی دستاویز کے مطابق سرکاری ریکارڈ میں ظاہر کیے گئے ہینڈ گلوز(دستانے) ڈی ایچ اوز کےاسٹورزمیں موجود نہیں۔ باجوڑ اور شمالی وزیرستان کے لیے 2 کروڑ 80 لاکھ کے ہینڈ گلوز(دستانے )خریدے گئے۔ ہینڈگلوز(دستانے)فروری،مارچ میں خریدے گئے، جن کی مجموعی لاگت 63 کروڑ 83 لاکھ روپےہے۔


دستاویز کے مطابق دستانوں کی خریداری کے لیے ڈائریکٹوریٹ جنرل ہیلتھ سروسز نے ادائیگیاں کیں۔ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس پشاور کے لیے 13 کروڑ،56 لاکھ روپے کے 60 لاکھ دستانے خریدے گئے جب کہ ڈی ایچ او کا اسٹور کیپر ان معاملات سے متعلق لاعلم ہے۔ اسٹورکیپرکے مطابق دستانوں کا کوئی اسٹاک ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس کو موصول نہیں ہوا۔


ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس باجوڑ کے لیے ٹاپ اپ پروگرام کے تحت کاغذات میں 6 کروڑ،78 لاکھ روپےکےدستانےخریدے گئے۔ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس باجوڑ میں 30 لاکھ دستانے بھی غائب پائے گئے ہیں۔ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس شمالی وزیرستان کے لیے 43 کروڑ،48 لاکھ روپےکےدستانےخریدےگئے۔


اسی طرح ڈی ایچ او شمالی وزیرستان کے لیے خریدےگئےایک کروڑ 90 لاکھ دستانے بھی غائب ہیں۔


وزیر صحت قاسم علی شاہ کا کہنا ہے کہ معاملے کی میگا انکوائری شروع کردی گئی ہے۔نگراں حکومت کے دور میں جو بھی کرپشن ہوئی ہے، وہ سامنےلائیں گے۔