بیٹسمینوں کی ناکامی ہمیں لے ڈوبی دھونی کا اعتراف

چھ بیٹسمین اور ایک اضافی بولر کے ساتھ کھیلنے کی حکمت عملی درست ہے، بھارتی قائد


Sports Desk August 11, 2014
چھ بیٹسمین اور ایک اضافی بولر کے ساتھ کھیلنے کی حکمت عملی درست ہے، بھارتی قائد۔ فوٹو: فائل

KARACHI: بیٹسمینوں کی ناکامی بھارتی ٹیم کو لے ڈوبی، دھونی کا کہنا ہے کہ بیٹنگ میں ناکامیاں حالیہ دورئہ انگلینڈ میں ہمارے لیے انتہائی نقصان دہ ہیں، چوتھے ٹیسٹ میں شکست ہمارے لیے باعث تکلیف ہے۔

تفصیلات کے مطابق بھارت کرکٹ ٹیم کے کپتان ایم اس دھونی نے اعتراف کیا ہے کہ ان کے اسپیشلسٹس بیٹسمینوں کی ناکامیوں کی وجہ سے انگلینڈ کو 5 میچ کی سیریز میں 2-1 کی برتری حاصل ہوگئی ہے، دھونی کہتے ہیں کہ بھارت اولڈ ٹریفورڈ ٹیسٹ میچ کے پہلے گھنٹے میں ہی ہارچکا تھا، جب ٹاس جیتنے کے بعد دھونی کے بیٹنگ کرنے کے فیصلے پر بھارت 8 رنز کے عوض 4 وکٹیں گنوا چکا تھا، لنچ کے کچھ بعد ہی ان کے 6 پلیئرز پویلین لوٹ چکے تھے، اس کے باوجود دھونی کی ایشون کے ساتھ مزاحمت کے بعد بھارت 152 رنز بنانے میں کامیاب ہوگیا تھا۔

ہفتہ کو ایک مرتبہ پھر بھارت کی بساط با آسانی دو سیشنز سے بھی کم وقت میں لپیٹی جاچکی تھی جس سے ایلسٹر کک کی ٹیم کو جمعہ سے شروع ہونیوالے اوول کے فائنل ٹیسٹ میں مدد ملے گی۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ لارڈز میں شاندار کامیابی کے بعد بھارت باآسانی ایک بھی سیشن جیتنے میں ناکام رہا ہے۔ دھونی کہتے ہیں کہ سب سے زیادہ اہمیت بورڈ پر زیادہ سے زیادہ رنز ہونا چاہئیں تاکہ بولرز حریف ٹیم پر قابو پاسکے۔ دھونی کے مطابق اس ٹیسٹ میں ان کے بیٹسمینوں کی ناکامی زیادہ محسوس ہوئی کیونکہ پہلے تین ٹیسٹ میچز میں لوئر آرڈر پر بہتر کھیل کا مظاہرہ کرنیوالے پلیئرز بھی مانچسٹر میں ناکام رہے ہیں۔

دھونی کا کہنا ہے کہ بھارتی بیٹسمینوں کو وقت کے مطابق کھیلنا چاہیے اور اپنے کمفرٹ زون سے باہر گیند کھیلنے کے بجائے حریف کو انھیں آؤٹ کرنے پر مجبور کرانا چاہیے۔ حیران کن طور پر بھارت نے انگلینڈ کے 105.3 اوورز کی جگہ دونوں اننگز میں صرف 89.4 اوورز کا سامنا ہی کیا تھا۔ دھونی نے کہا ہے کہ ایک مرتبہ پھر جیتنے کے لیے ذمہ داری بیٹسمینوں پر ہی ہے کیونکہ بھارت بشمول ان کے صرف 6 بیٹسمینوں کے ساتھ کھیل رہا ہے۔

6 بیٹسمینوں اور ایک اضافی بولر کے ساتھ کھیلنے کا دفاع کرتے ہوئے دھونی کہتے ہیں کہ ان کے پاس کوئی اور انتخاب نہیں ہے۔ لارڈز ٹیسٹ کی جیت میں ہاف سنچری کا حصہ ڈالنے کے بعد بیٹ اور بال کے ساتھ کارکردگی نہ دکھانیوالے رویندرا جڈیجا کی ٹیم سے تنزلی پر دھونی رضامند نہیں ہیں ، وہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ پھر مسئلہ یہی ہے کہ ان کی جگہ کسے دی جائے، جتنا زیادہ وہ کھیلیں گے اتنی ہی زیادہ کامیابی حاصل کرینگے، ہمیں امید ہے کہ ایسا جلد ہی ہوگا، وہ ایک مرتبہ پھر اپنی کارکردگی دکھا پائیں گے۔ مانچسٹر میں جڈیجا ایک باؤنسی پچ پر صرف ایک وکٹ لینے میں ہی کامیاب رہے تھے جبکہ انگلینڈ کے پارٹ ٹائم اسپنر معین علی نے 4 شکار کیے تھے۔