سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان طے پانے والے معاہدے مختلف شعبوں کی ترقی کے لیے اہم سنگِ میل ثابت ہوں گے۔
اپنے ایک جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ مفاہمتی یادداشتوں سے سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور صنعتی تعاون کو فروغ ملے گا۔
انہوں نے کہا کہ کراچی جیسے بڑے شہر کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے پیش نظر سمندری پانی کو میٹھا بنانے کے منصوبے ناگزیر ہو چکے ہیں، جن کے ذریعے شہریوں کو اضافی پانی فراہم کیا جا سکے گا اور مستقبل میں پانی کے بحران پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت عالمی معیار کی کمپنیوں کے ساتھ اشتراک کے ذریعے شہری مسائل کا مستقل حل تلاش کر رہی ہے، جس سے انفراسٹرکچر بہتر ہوگا اور روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
شرجیل میمن نے مزید بتایا کہ محکمہ بلدیات سندھ اور چینی کمپنی کے درمیان زرعی ٹیکنالوجی میں تعاون سندھ کی معیشت کے لیے خوش آئند ہے۔ جدید تحقیق، بہتر بیج، اسمارٹ فارمنگ اور جدید طریقۂ کاشت سے فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ممکن ہوگا، جس سے کسان خوشحال ہوں گے اور زرعی برآمدات میں اضافہ ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ چین کے زرعی تجربے سے فائدہ اٹھا کر سندھ میں زراعت کو جدید خطوط پر استوار کیا جا سکتا ہے، جبکہ چائے کے شعبے میں تعاون دونوں ممالک کے تجارتی تعلقات، سرمایہ کاری اور عوامی روابط کو مزید مضبوط بنائے گا۔