پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کی منظوری کے بغیر اے آئی کے شعبے میں بھرتیوں پر پابندی عائد

اے آئی کے شعبے میں بھرتیوں کے لیے پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی سے پیشگی منظوری کو لازمی قرار دے دیا گیا


ارشاد انصاری April 28, 2026

اسلام آباد:

وفاقی حکومت نے پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی سے پیشگی منظوری کے بغیر تمام وزارتوں و ڈویژنوں اور ماتحت اداروں میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے میں بھرتیوں پر پابندی عائد کردی ہے۔

حکومت کی جانب سے وزارتوں اور ڈویژنوں میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے میں بھرتیوں کے لیے پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی سے پیشگی منظوری کو لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔  

اس حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ آفس میمورنڈم کی کاپی تمام وزارتوں اور ڈویژنوں کو ارسال کردی گئی ہے جبکہ وزارتوں اور ڈویژنوں نے بھی اپنے ماتحت اداروں کے لیے وزیراعظم کی ہدایات ر پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کے جاری کردہ آفس میمورنڈم پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کی ہدایت کردی ہے۔

ایکسپریس کو دستیاب دستاویز کے مطابق وفاقی حکومت نے وزارتوں اور ڈویژنوں اور ان کے ماتحت اداروں میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے میں بھرتیوں اور اس سے متعلقہ امور کو باقاعدہ ضابطے میں لانے کا فیصلہ کیا ہے ۔

اس بارے میں پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کے 20 اپریل 2026 کے جاری کردہ آفس میمورنڈم کے مطابق وزیرِاعظم آفس کی ہدایات کی روشنی میں تمام وزارتوں، ڈویژنز اور ان کے ماتحت اداروں میں اے آئی سے متعلق انسانی وسائل کی بھرتی، نئی اسامیوں کی تخلیق، ہائرنگ کے عمل اور دیگر متعلقہ منظوریوں کے لیے پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی سے لازمی تکنیکی جانچ اور پیشگی منظوری حاصل کرنا ضروری قرار دے دیا گیا ہے۔

سرکلر میں واضح کیا گیا ہے کہ اس شعبے میں کسی بھی قسم کی بھرتی، اشتہار، ٹرمز آف ریفرنس یا ہائرنگ کے عمل کا آغاز اتھارٹی کی پیشگی کلیئرنس کے بغیر نہیں کیا جا سکے گا۔

اس ضمن میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں سیکریٹری (مینجمنٹ/ایچ آر-آئی آر-I) کو ادارے کا فوکل پرسن مقرر کر دیا گیا ہے جو پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کے ساتھ رابطہ کاری اور ضروری امور کی تکمیل کے ذمہ دار ہوں گے ۔