کیا جیب میں پیاز رکھ کر ہیٹ اسٹروک اور لُو لگنے سے واقعی بچا جاسکتا ہے؟

بزرگ اکثر تپتی دھوپ میں باہر جانے والوں کو پیاز ساتھ رکھنے کا مشورہ دیتے رہے ہیں


ویب ڈیسک April 29, 2026

گرمیوں کی شدت بڑھتے ہی ہیٹ اسٹروک اور لُو سے بچاؤ کے لیے مختلف دیسی نسخے دوبارہ زیرِ بحث آ جاتے ہیں، جن میں جیب میں پیاز رکھ کر گھر سے نکلنے کا مشورہ بھی خاصا مشہور ہے۔

برصغیر میں یہ روایت برسوں سے چلی آ رہی ہے اور بزرگ اکثر تپتی دھوپ میں باہر جانے والوں، خصوصاً بچوں، کو پیاز ساتھ رکھنے کا مشورہ دیتے رہے ہیں۔

عام خیال یہ ہے کہ پیاز گرم ہوا کے اثرات کو کم کرسکتی ہے یا لُو کو اپنے اندر جذب کر لیتی ہے۔ بعض لوگ لُو لگنے کی صورت میں پیاز کا رس جسم پر لگانے کو بھی مفید سمجھتے ہیں، خاص طور پر سینے یا پاؤں کے تلووں پر۔ تاہم جدید طبی ماہرین کے مطابق اس تصور کی سائنسی بنیاد موجود نہیں۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ پیاز اپنی غذائی خصوصیات کے باعث یقیناً مفید ہے۔ اس میں پانی، وٹامن سی، وٹامن بی6، پوٹاشیم اور اینٹی آکسیڈنٹس کی مناسب مقدار پائی جاتی ہے، جبکہ اس میں موجود ’کوئرسیٹن‘ نامی مرکب جسم میں سوزش کم کرنے اور اندرونی ٹھنڈک برقرار رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔ لیکن یہ فوائد پیاز کھانے سے حاصل ہوتے ہیں، نہ کہ صرف اسے جیب میں رکھنے سے۔

طبی تحقیق کے مطابق پیاز بطور غذا جسم کو ہائیڈریٹ رکھنے، میٹابولزم بہتر بنانے اور گرمی کے اثرات کم کرنے میں معاون ہو سکتی ہے، مگر اسے جیب میں رکھنے سے ہیٹ اسٹروک یا لُو سے تحفظ ملنے کا کوئی مستند ثبوت موجود نہیں۔

ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ شدید گرمی سے بچنے کے لیے زیادہ پانی پینا، نمکیات سے بھرپور مشروبات استعمال کرنا، ہلکے رنگ کے ڈھیلے کپڑے پہننا، سر کو ڈھانپ کر رکھنا اور دوپہر کے اوقات میں غیر ضروری باہر نکلنے سے گریز کرنا زیادہ مؤثر اور سائنسی طور پر ثابت شدہ تدابیر ہیں۔

یوں کہا جا سکتا ہے کہ پیاز کو خوراک کا حصہ بنانا یقیناً فائدہ مند ہو سکتا ہے، مگر صرف جیب میں رکھ کر اسے لُو سے بچاؤ کی ضمانت سمجھنا زیادہ تر ایک روایتی تصور ہے، طبی حقیقت نہیں۔