خیبرپختونخوا میں 3 ماہ کے دوران پولیس اور سی ٹی ڈی نے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہوئے 108 دہشت گردوں کو ہلاک جبکہ 283 کو گرفتار کرلیا۔
تفصیلات کے مطابق خیبر پختونخوا پولیس نے رواں سال کے پہلے تین ماہ کی کارکردگی رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں دہشت گردی، جرائم اور منشیات کے خلاف نمایاں کامیابیوں کے ساتھ بھاری جانی قربانیوں کی تفصیلات بھی سامنے آئی ہیں۔
رپورٹ انسپکٹر جنرل پولیس ذوالفقار حمید کی زیر صدارت سنٹرل پولیس آفس پشاور میں ہونے والے اجلاس میں پیش کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق محکمہ انسداد دہشت گردی (CTD) نے گزشتہ تین ماہ کے دوران فتنہ الخوارج کے خلاف 1087 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے، جن کے نتیجے میں 283 دہشت گرد گرفتار جبکہ 108 دہشت گرد اور اشتہاری ہلاک کیے گئے۔
گرفتار دہشت گردوں میں 3 انتہائی مطلوب کمانڈرز اور ایک خودکش حملہ آور خاتون بھی شامل ہے۔ اسی عرصے کے دوران پولیس پر 194 دہشت گرد حملے ہوئے، جن میں سے 106 حملوں کو مؤثر حکمت عملی، فورٹیفیکیشن اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ناکام بنایا گیا۔
ان حملوں میں پولیس کے 59 افسران و جوان شہید جبکہ 88 زخمی ہوئے، جو سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کی واضح عکاسی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سی ٹی ڈی کی کارروائیوں کے دوران بھاری مقدار میں اسلحہ و بارودی مواد بھی برآمد کیا گیا، جن میں 24 ایس ایم جیز، 55 ہینڈ گرینیڈز، 21 پستول، ایک خودکش جیکٹ اور 1700 کلوگرام سے زائد دھماکہ خیز مواد شامل ہیں۔
پولیس رپورٹ کے مطابق منشیات کے خلاف کارروائیوں میں پولیس نے 7771 مقدمات درج کر کے 7751 ملزمان کو گرفتار کیا۔ اس دوران 7028 کلوگرام منشیات برآمد کی گئی، جن میں 5695 کلو چرس، 275 کلو افیون، 210 کلو ہیروئن اور 847 کلو آئس شامل ہیں، جبکہ 22124 لیٹر شراب بھی قبضے میں لی گئی۔
پولیس کے مطابق جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیوں میں 5528 اشتہاری گرفتار جبکہ 66 پولیس مقابلوں میں مارے گئے، اسلحہ برآمدگی کے حوالے سے 14046 مقدمات درج کیے گئے اور ہزاروں کی تعداد میں اسلحہ اور کارتوس قبضے میں لیے گئے۔
پولیس رپورٹ کے مطابق نیشنل ایکشن پلان کے تحت 6684 سرچ اینڈ سٹرائیک آپریشنز کیے گئے، جن میں 21531 مشتبہ افراد گرفتار کیے گئے۔ اسی طرح 22028 سنیپ چیکنگ کے دوران 43221 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا۔
عوامی سہولیات کے حوالے سے پولیس سہولت مراکز میں 67543 ویزا ویریفیکیشن، 23009 لوکل ویریفیکیشن، 3046 بیرون ملک اور 4627 کرایہ داری ویریفیکیشن سمیت ہزاروں شہریوں کو خدمات فراہم کی گئیں، جبکہ 8724 گمشدہ اشیاء کے کیسز بھی نمٹائے گئے۔ حکومت کی جانب سے ان مراکز کا دائرہ کار تحصیل سطح تک بڑھانے پر کام جاری ہے۔
آئی جی کو پیش کی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پشاور میں 2.23 ارب روپے کی لاگت سے سیف سٹی منصوبہ بھی فعال ہو چکا ہے، جس کے تحت 711 جدید کیمروں کے ذریعے جرائم کی نگرانی اور فوری کارروائی ممکن بنائی جا رہی ہے۔
شکایات کے ازالے کے لیے پولیس ایکسس سروس (PAS) میں 3165 درخواستیں موصول ہوئیں، جن میں سے 2195 حل جبکہ 970 زیر التواء ہیں۔ اسی طرح تنازعات کے حل کے لیے قائم ڈی آر سیز میں 1559 کیسز باہمی رضامندی سے حل کیے گئے۔
آئی جی پی ذوالفقار حمید نے پولیس کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے واضح کیا کہ صوبے میں امن و امان پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور ملک دشمن عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائیاں جاری رہیں گی۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ اور انہیں ان کی دہلیز پر سہولیات کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے گی۔