تیل کے نرخ آسمان سے باتیں کر رہے ہیں، جمعہ کو قیمتوں کا دوبارہ تعین کریں گے، وزیر اعظم

یہ بہت چیلنجنگ صورتحال ہے، ٹاسک فورس روزانہ کی بنیاد پر صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے، شہباز شریف


ویب ڈیسک April 29, 2026

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، جمعہ کو قیمتوں کا دوبارہ تعین کریں گے۔

وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی اور قیام امن کیلئے متواتر کوششیں کیں جو ہنوز جاری ہیں، جنگ کی وجہ سے ہمارا معاشی ترقی کا سفر رک گیا، پٹرولیم کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، مسائل پہاڑ بن کر سامنے کھڑے ہیں لیکن مشکل وقت سے سرخرو ہوکر نکلیں گے۔

سعودی عرب کے تعاون سے ساڑھے تین ارب ڈالر کا بیرونی قرضہ چکا دیا، کفایت شعاری اقدامات جاری رہیں گے۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کابینہ کے ارکان کو صورت حال پر اعتماد میں لیتے ہوئے بتایا کہ حالیہ ہفتوں میں اہم واقعات ہوئے، امریکا اور ایران کے مابین پاکستان نے بات چیت کا جو طویل سلسلہ 11 اپریل کی رات شروع کرایا وہ 21 گھنٹے طویل تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ میرا تھن سیشن تھا جس کے لیے بے پناہ کاوشیں کی گئیں ، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ہمت نہیں ہاری اور دن رات کاوشیں کیں، نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار بھی اپنے ہم منصبوں کے ساتھ مصروف رہے، ہماری بے پناہ کاوشوں سے جنگ بندی میں توسیع ہوئی جو ہنوز جاری ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اسی دوران ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی اپنی ٹیم کے ساتھ آئے، ان کے ساتھ بھی میرا تھن سیشن ہوئے، ہفتہ کے روز وہ مجھ سے بھی ملے، دو گھنٹے کی ملاقات میں سیر حاصل گفتگو ہوئی ۔ وزیر داخلہ کا بھی اس حوالے سے بہت اہم کردار رہا، ایرانی وزیر خارجہ عمان بھی گئے اور واپس پاکستان آئے پھر روس گئے۔ ان سے میری فون پر بات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ وہ اخلاص سے ملاقاتیں کر رہے ہیں اور مشورہ کرکے جواب دیں گے۔

وزیر اعظم نے بتایا کہ اس دوران خام تیل کی قیمتیں دوبارہ آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، ہمیں بھی نئی قیمتوں کا تعین کرنا ہے ، بہت چیلنجنگ صورت حال کا سامنا ہے لیکن اجتماعی بصیرت اور کاوشوں سے صورت حال پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔

انہوں نے وزیر پٹرولیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہمارے اقدامات کی بدولت پاکستان میں خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں صورتحال تسلی بخش رہی اور کہیں لائنیں نہیں لگیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ صورت حال ایسی ہے کہ جنگ سے پہلے ایک ہفتے کا پٹرولیم بل جو 300 ملین ڈالر ہوتا تھا آج 800 ملین ڈالر تک پہنچ چکا ہے، حکومت کفایت شعاری اقدامات اور بچت کے ذریعے کوشاں ہے، اس کیلئے ٹاسک فورس بھی بنائی جو صورت حال کا بغور جائزہ لے رہی ہے ، حکومتی اقدامات کی بدولت کھپت میں نمایاں کمی آئی ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے پاکستان کی معیشت میکرو لیول پر پاؤں پر کھڑی ہوگئی تھی اور ہم گروتھ کی طرف بڑھ رہے تھے لیکن جنگ سے بے تحاشا متاثر ہوئے ہیں اور معاشی بہتری کیلئے ہماری دو سال کی اجتماعی کوششوں کو شدید نقصان پہنچا ہے لیکن یہ ہمارے اختیار سے باہر تھا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ وہ دعاگو ہیں کہ جنگ مستقل بند اور امن قائم ہو تاکہ ہمارا ترقی اور خوشحالی کا سفر پھر سے رواں ہو۔ وزیر اعظم نے کابینہ کو بتایا کہ پاکستان نے ساڑھے تین ارب ڈالر کے بیرونی قرضے ادا کر دیئے ہیں، فیڈرل ریزروز بھی اپنی جگہ پر ہیں، اس کیلئے ہم سعودی عرب کے حکمران شاہ سلمان بن عبد العزیز السعود اور ولی عہد و وزیر اعظم محمد بن سلمان کے شکر گزار ہیں جنہوں نے ہمارا مسئلہ فوری طور پر حل کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ مسائل کے پہاڑ ہمارے سامنے کھڑے ہیں لیکن جلد حل ہو جائیں گے ۔ امن کیلئے کوششیں ہنوز جاری ہیں، ان میں کمی نہیں آئے گی۔ ہمت باندھے رکھنا اور محنت جاری رکھنا ہوگی ہماری کوششوں کے بہتر نتائج سامنے آئے ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ مشیر نجکاری محمد علی نے بتایا ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری سے قومی خزانے پر بوجھ نہیں پڑے گا۔

وزیر اعظم نے صوبوں کے ساتھ رابطہ کیلئے بنائی گئی کمیٹی کو ہدایت کی کہ کفایت شعاری اور عوام کو ریلیف کی فراہمی کیلئے اقدامات اور سبسڈی کو جاری رکھنے کیلئے بات چیت کی جائے۔ پبلک ٹرانسپورٹ اور موٹر بائیکس والوں کا خیال رکھا جائے۔ عوام سے جو کمٹمنٹ کی ہے اسے پورا کیا جائے گا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ مشکل وقت گزر جائے گا، جو قومیں محنت اور یکسوئی سے کام کرتی ہیں وہ زندہ رہتی ہیں.