پی ایس او کو مالی سال کے ابتدائی 9 ماہ کے دوران 38ارب روپے کا خالص منافع

گزشتہ سال اسی عرصے کے 15.3 ارب روپے کے مقابلے میں خاطر خواہ اضافہ ہے


اسٹاف رپورٹر April 29, 2026

کراچی:

پاکستان اسٹیٹ آئل نے 31 مارچ 2026 کو ختم ہونے والے مالی سال 2026 کے ابتدائی 9 ماہ کے دوران 38.1 ارب روپے مالیت کا خالص منافع حاصل کیا ہے، جو گزشتہ سال اسی عرصے کے 15.3 ارب روپے کے مقابلے میں خاطر خواہ اضافہ ظاہر کرتا ہے۔

اس دوران پی ایس او کی فی حصص آمدنی بھی بڑھ کر 81.19 روپے تک پہنچ گئی جبکہ مجموعی فروخت 2.4 کھرب روپے رہی۔ گروپ کی مجموعی کارکردگی بھی اسی رحجان کی عکاس رہی، جہاں خالص منافع بڑھ کر 39.4ارب روپے تک پہنچ گیا اور فی حصص آمدنی 83.93روپے ریکارڈ کی گئی جو تمام ذیلی کمپنیوں میں غیر معمولی منافع بخش کارکردگی کو ظاہر کرتا ہے۔

 مالی سال 2026 کی تیسری سہ ماہی عالمی سطح پر شدید معاشی دباؤ سے متاثر رہی، جہاں مشرق وسطیٰ میں عسکری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز کی بندش نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔

اس بحران کے نتیجے میں 1988 کے بعد تیل کی قیمتوں میں مہنگائی کے لحاظ سے سب سے بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا، قطر انرجی اور کویت پیٹرولیم کارپوریشن کی جانب سے جی ٹو جی سپلائرز کے فورس میجر کے اعلانات کے باعث ایل این جی اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی ترسیل میں رکاوٹیں پیدا ہوئیں۔ ان غیر معمولی حالات میں پی ایس او نے حکمت عملی اور بروقت اقدامات کے ذریعے پاکستان کی توانائی سیکیورٹی کو یقینی بنایا۔

متبادل بین الاقوامی ذرائع کے حصول اور مقامی ریفائنریز پر انحصار بڑھا کر کمپنی نے سپلائی میں خلل کے اثرات کو کم کیا، جو دیگر مارکیٹ شرکاء کو متاثر کر رہے تھے۔

پی ایس او نے وائٹ آئل سیکٹر میں 42.6 فیصد مارکیٹ شیئر کے ساتھ اپنی برتری برقرار رکھی، جہاں مجموعی فروخت 5,163ہزار میٹرک ٹن رہی۔ ڈیزل میں کمپنی کا حصہ 42.4فیصد جبکہ موٹر گیسولین (موگیس) میں 37.8فیصد رہا۔

ایوی ایشن سیکٹر میں کمپنی نے 99.2فیصد مارکیٹ شیئر کے ساتھ اپنی برتری برقرار رکھی، جبکہ لبریکنٹس کے کاروبار میں 16فیصد حجم کے لحاظ سے اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ایل پی جی کے شعبے میں بھی ریکارڈ 46,895 میٹرک ٹن فروخت حاصل کی گئی، جو سالانہ بنیادوں پر 10 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔