اسلام آباد ہائی کورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد آصف پر مشتمل بینچ نے کی۔
سماعت کے موقع پر بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر عدالت میں پیش ہوئے جبکہ نیب کی جانب سے جاوید اشرف اور رافع مقصود بھی عدالت میں موجود تھے۔ عدالت کے باہر پی ٹی آئی کے اراکین قومی اسمبلی و سینیٹ، کارکنان اور علیمہ خان بھی موجود رہیں۔
وکیل سلمان صفدر نے عدالت کو بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کی بینائی شدید متاثر ہو چکی ہے اور ان کی ایک آنکھ سے نظر تقریباً ختم ہو چکی ہے، جبکہ انہیں روزانہ 22 گھنٹے قید تنہائی میں رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بشریٰ بی بی کو بھی 24 گھنٹے قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے اور ان کی دائیں آنکھ کی سرجری ہو چکی ہے، تاہم انہیں ڈاکٹرز کی ہدایات کے مطابق ہسپتال میں نہیں رکھا گیا۔
وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اڈیالہ جیل میں مناسب علاج ممکن نہیں، اس لیے عدالت جیل حکام، آئی جی جیل خانہ جات اور ہسپتال ریکارڈ طلب کرے۔ انہوں نے قید تنہائی کو غیر قانونی اور بنیادی حقوق کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ سزا عدالتی فیصلے میں شامل نہیں۔
چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر نے ریمارکس دیے کہ اپیل مقرر ہونے کے بعد سزا معطلی کی درخواستیں غیر مؤثر ہو جاتی ہیں، اور عدالت اپیل کو جلد سماعت کے لیے تیار ہے۔ عدالت نے وکیل کو ہدایت کی کہ وہ اپیل پر دلائل کے لیے شیڈول فراہم کریں تاکہ کیس کو جلد نمٹایا جا سکے۔
سماعت کے دوران وکیل کی جانب سے سزا معطلی کی درخواستوں پر فوری فیصلہ دینے کی استدعا بھی کی گئی، جبکہ عدالت نے واضح کیا کہ اپیل پر دلائل کو ترجیح دی جائے گی۔ کیس کی مزید سماعت آئندہ تاریخ تک ملتوی کر دی گئی۔