سابق سینیٹر مشتاق احمد اسرائیلی حراست سے رہا، ترکیے منتقل

پاکستان اپنے فلسطینی بھائیوں اور بہنوں کی بھرپور اور غیرمبہم حمایت جاری رکھے گا، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار


ویب ڈیسک May 01, 2026
(فوٹو: فائل)

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ غزہ کے محصورین کے لیے گلوبل صمود فلوٹیلا کے ذریعے انسانی امداد لے جانے والے کارکنوں سمیت غیرقانونی طور پر حراست میں لیے گئے سابق سینیٹر مشتاق احمد کو قابض اسرائیلی فورسز سے آزاد کرادیا گیا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ ‘الحمداللہ، مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ سابق سینیٹر مشتاق احمد کو رہا کر دیا گیا ہے جنہیں اسرائیلی قابض فورسز نے غیرقانونی طور پر گلوبل صمود فلوٹیلا سے انسانی امداد کے کارکنوں سمیت حراست میں لیا تھا’۔

انہوں نے کہا کہ میں یونانی حکام کا بھی مشکور ہوں جنہوں نے یونان کے شہر کریٹ میں سابق سینیٹر مشتاق احمد کے لیے سہولت فراہم کی اور ترک حکومت اور قیادت کا بھی شکرگزار ہوں جنہوں نے استنبول منتقلی اور وہاں سے پاکستان واپسی کے لیے مدد فراہم کی۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ وزارت خارجہ اور ایتھنز میں ہمارے سفارت خانے کے بھرپور کردار کو سراہتا ہوں۔

اسحاق ڈار نے اپنے بیان میں کہا کہ فلوٹیلا کے کارکنوں کو غیرقانونی طور پر حراست میں لینے اور غزہ کے محصور شہریوں کے لیے بھیجے گئے امداد کو روکنے کی بھرپور مذمت کرتا ہوں۔

نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ نے کہا کہ پاکستان اپنے فلسطینی بھائیوں اور بہنوں کی بھرپور اور غیرمبہم حمایت جاری رکھے گا۔

خیال رہے کہ اسرائیلی فورسز نے گزشتہ روز سینیٹر مشتاق احمد سمیت دنیا بھر سے انسانی بنیاد پر غزہ کے محصورین کے لیے امداد لے جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کے کارکنوں کو یونانی جزیرے کریٹ کے قریب بین الاقوامی سمندری حدود سے حراست میں لے لیا تھا۔

صمود فلوٹیلا 22 کشتیوں پر مشتمل تھا، جس میں تقریباً 175 کارکنان سوار تھے، گلوبل صمود فلوٹیلا کے منتظمین نے اسرائیل کے غیرقانونی اقدام کو ڈاکا زنی قرار دیتے ہوئے مذمت کی تھی۔

منتظمین نے بتایا تھا کہ اسرائیلی فورسز نے گلوبل صمود فلوٹیلا کو غزہ سے 965 کلو میٹر دور غیرقانونی طور پر قبضے میں لیا ہے، یہ علاقہ اسرائیلی بحریہ کی ناکہ بندی کے زیر ہے۔

قبل ازیں غیرملکی میڈیا نے رپورٹ میں بتایا تھا کہ اسرائیلی فورسز نے سوائے دو افراد کے صمود فلوٹیلا کے دیگر ارکان کو کریٹ منتقل کرنے کے بعد رہا کردیا ہے، زیرحراست دونوں افراد کو پوچھ گچھ کے لیے روک دیا گیا ہے۔

اسرائیلی وزارت خارجہ نے بتایا کہ زیرحراست افراد میں سیف ابو کیشک کو مبینہ طور پر دہشت گرد تنظیم سے منسلک ہونے پر روکا گیا ہے اور دوسرے تھیاگو ایویلا کو مبینہ غیرقانونی سرگرمیوں پر رہا نہیں کیا گیا ہے۔

گلوبل صمود فلوٹیلا کے منتظمین نے تمام ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیلی حکومت پر زور دیں کہ وہ دونوں افراد کو غیرقانونی قید سے رہا کرے۔

واضح رہے کہ سیف ابو کیشک فلسطینی نژاد ہسپانوی شہری ہیں اور وہ گلوبل صمود فلوٹیلا کے کلیدی ارکان میں سے ایک ہیں، جن پر اسرائیلی حکومت نے حماس کا کارکن ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔

تھیاگو ایویلا سلوا برازیل کے مشہور انسانی حقوق اور موسمیاتی کارکن اور گلوبل صمود فلوٹیلا کے سرگرم رہنما ہیں، جنہیں اس سے قبل گزشتہ برس بھی غزہ کے محصورین کو امدادی سامان لے جانے والے گلوبل صمود کے ارکان کے ہمراہ حراست میں لیا گیا تھا۔