ٹیم کے ساتھ موجود کوچز کی فوج پر اعتراضات بڑھنے لگے

ہر شعبے کیلیے الگ کوچ رکھنے کا تجربہ بُری طرح ناکام ثابت ہوا، حنیف محمد


Sports Reporter August 20, 2014
گرانٹ فلاور کسی بیٹسمین کا فٹ ورک تک درست نہ کرا سکے، سابق کپتان فوٹو: فائل

پاکستانی ٹیم کے ساتھ موجود کوچز کی فوج پر اعتراضات بڑھنے لگے، سابق کپتان حنیف محمد کے مطابق ہر شعبے کیلیے الگ کوچ رکھنے کا تجربہ بُری طرح ناکام ہوگیا، گرانٹ فلاور کسی بیٹسمین کا فٹ ورک تک درست نہ کراسکے، پلیئرز سرفراز احمد سے ہی سبق سیکھ لیتے تو کارکردگی بہتر رہتی۔

تفصیلات کے مطابق سری لنکا سے سیریز کے دونوں ٹیسٹ میں گرین کیپس کو بدترین شکستوں کا سامنا کرنا پڑا، خصوصاً بیٹنگ لائن بُری طرح ناکام رہی، ٹور پر ٹیم کے ساتھ 10 رکنی ٹیم مینجمنٹ موجود ہے، اس میں ہر شعبے کے الگ کوچز بھی شامل ہیں، ان پر تنقید کرنے والوں میں اب سابق کپتان حنیف محمد بھی شامل ہوگئے، نمائندہ ''ایکسپریس'' سے بات چیت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ بیٹنگ لائن فلاپ ہونے کے ذمہ دار غیر ملکی کوچ گرانٹ فلاور ہیں جو کسی کھلاڑی کا فٹ ورک تک درست نہ کرا سکے، حریف بولرز نے اس کمزوری کا بھر پور فائدہ اٹھایا۔

حنیف محمد نے کہا کہ بھاری بھرکم ٹیم مینجمنٹ قومی ٹیم کو فائدے کے بجائے نقصان پہنچا رہی ہے، دیگر ممالک کی پیروی کرتے ہوئے ہر شعبے میں الگ کوچز رکھنا درست نہیں، بہتر یہی ہے کہ صرف چیف کوچ اور منیجر کپتان کی مشاورت سے فیصلے کریں، ایک ہی اچھا کوچ ٹیسٹ کرکٹرز کی بہتر انداز میں رہنمائی کر سکتا ہے لیکن جب تک ہمارے کھلاڑی پروفیشنل انداز نہیں اپنائیں گے، ایسی شکستیں مقدر بنتی رہیں گی۔

انھوں نے کہا کہ ٹیسٹ کرکٹر بچے نہیں ہوتے کہ انھیں انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا جائے، پاکستان نے سری لنکا میں ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کیا، سرفراز احمد اور یونس خان کے سوا تمام کھلاڑیوں نے بہت مایوس کیا، وکٹ کیپر بیٹسمین نے مشکل حالات میں بھی حواس قابو میں رکھتے ہوئے صحیح اسٹروکس کھیلے، یونس اور کپتان مصباح الحق کے سوا دیگر کھلاڑیوں کو سرفرازکی تکنیک سے سیکھنا چاہیے، ٹیسٹ سیریز میں ایسا کرلیتے تو کارکردگی بہتر ہوتی۔ سابق کپتان نے کہا کہ سرفراز احمد کو سری لنکا کے خلاف ون ڈے سیریز کیلیے قومی اسکواڈ میں شامل کرنا پاکستان کے مفاد میں ہوتا۔