واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بڑھتی ہوئی مہنگائی کے اعداد و شمار پر ردعمل دیتے ہوئے ایک ایسا بیان دیا ہے جس نے سیاسی اور معاشی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا میں صارفین کی مہنگائی کی شرح مئی 2026 کے دوران گزشتہ تین برسوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں افراطِ زر 4 فیصد سے زائد ریکارڈ کی گئی۔
اس دوران ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان بھی دیکھا گیا۔
صحافیوں کی جانب سے مہنگائی میں اضافے اور اس کے نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات پر ممکنہ اثرات کے بارے میں سوال کیے جانے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حیران کن انداز میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’مجھے مہنگائی پسند ہے‘۔
ٹرمپ نے اس موقع پر یہ مؤقف بھی دہرایا کہ ایران کے ساتھ جاری جنگی صورتحال ختم ہوتے ہی قیمتوں میں نمایاں کمی آئے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ معاشی دباؤ عارضی نوعیت کا ہے اور خطے میں استحکام بحال ہونے کے بعد توانائی اور دیگر شعبوں میں قیمتیں نیچے آنا شروع ہوجائیں گی۔
صدر ٹرمپ کے اس بیان پر سیاسی مبصرین اور اقتصادی ماہرین کی جانب سے مختلف ردعمل سامنے آرہے ہیں۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی امریکی عوام کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن سکتی ہے، جبکہ حکومتی حلقے پُرامید ہیں کہ جنگی کشیدگی میں کمی کے بعد معاشی حالات بہتر ہوجائیں گے۔
امریکا میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال کو آنے والے مہینوں میں ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایک اہم امتحان قرار دیا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک سیاسی طور پر بھی ایک اہم انتخابی مرحلے کی طرف بڑھ رہا ہے۔