چین نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر فوجی کارروائیاں بند کریں اور تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارتی ذرائع اختیار کریں۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان لن جیان نے معمول کی پریس بریفنگ کے دوران مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ چین خطے میں جاری جنگی کارروائیوں میں اضافے پر تشویش رکھتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکا کی جانب سے ایران پر تازہ حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
چینی ترجمان نے کہا کہ تمام متعلقہ فریق فوری طور پر فوجی کارروائیاں روکیں، مذاکرات اور بات چیت کی طرف واپس آئیں اور خطے میں امن کے قیام کے لیے جاری ثالثی کوششوں کا مثبت جواب دیں۔
لن جیان کا کہنا تھا کہ چین ایک جامع، پائیدار اور مستقل جنگ بندی کا حامی ہے اور سمجھتا ہے کہ مسائل کا حل صرف سفارتی ذرائع اور مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ کشیدگی نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی خطرات پیدا کر سکتی ہے، اس لیے تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں اور صورتحال کو مزید بگاڑنے سے گریز کریں۔
چین کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور خطے کے مختلف ممالک بھی ممکنہ جنگ کے پھیلاؤ پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔