امریکا میں کی جانے والی ایک نئی تحقیق نے کم عمر خواتین میں بے خوابی اور بعض اقسام کے کینسر کے درمیان ممکنہ تعلق کی نشاندہی کی ہے، جس کے بعد ماہرین نے نیند کی اہمیت پر ایک بار پھر زور دیا ہے۔
تحقیق کے دوران 2021 سے 2026 تک تقریباً ایک کروڑ 90 لاکھ افراد کے طبی ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا۔ ان میں 4 لاکھ 13 ہزار ایسے افراد بھی شامل تھے جو بے خوابی کے مسئلے کا شکار تھے۔ یہ تحقیق امریکی ریاستوں نیو جرسی اور لوزیانا کے سائنسدانوں نے مشترکہ طور پر انجام دی۔
محققین کے مطابق نتائج سے معلوم ہوا کہ 50 برس سے کم عمر وہ خواتین جو مسلسل بے خوابی کا سامنا کرتی ہیں، ان میں چھاتی، رحم اور بیضہ دانی کے کینسر کے امکانات دیگر خواتین کے مقابلے میں زیادہ دیکھے گئے۔
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ نیند کی خرابی صرف خواتین تک محدود نہیں بلکہ مردوں اور خواتین دونوں میں بڑی آنت کے کینسر کے بڑھتے ہوئے خطرے سے بھی منسلک ہو سکتی ہے۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ ناکافی یا متاثرہ نیند جسم میں ہارمونز کے قدرتی توازن کو بگاڑ سکتی ہے، جو بعد ازاں مختلف صحت کے مسائل، بشمول کینسر، کے خطرات میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔
تاہم ماہرین نے واضح کیا ہے کہ اس تحقیق سے صرف ایک ممکنہ تعلق سامنے آیا ہے اور اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ بے خوابی براہِ راست کینسر کا باعث بنتی ہے۔ ان کے مطابق مزید سائنسی تحقیقات کی ضرورت ہے تاکہ اس تعلق کی نوعیت کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔
محققین کا کہنا ہے کہ نتائج اس بات کی اہمیت اجاگر کرتے ہیں کہ معیاری نیند، متوازن طرزِ زندگی اور صحت مند معمولات کو روزمرہ زندگی کا حصہ بنایا جائے، کیونکہ یہ عوامل مستقبل میں مختلف بیماریوں سمیت کینسر کے خطرات کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔