واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر مجوزہ فوجی حملے روکنے اور تہران کے ساتھ ممکنہ امن معاہدے کا عندیہ دینے کے بعد دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹوں میں زبردست تیزی دیکھنے میں آئی ہے جبکہ سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق وال اسٹریٹ کے اہم انڈیکس ایس اینڈ پی 500 میں تقریباً 1.8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو اپریل کے بعد ایک دن میں ہونے والا سب سے بڑا اضافہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اسی طرح ٹیکنالوجی کمپنیوں پر مشتمل نیسڈیک انڈیکس 2.5 فیصد جبکہ ڈاؤ جونز انڈسٹریل ایوریج تقریباً 1.9 فیصد اضافے کے ساتھ بند ہوا۔
امریکی مارکیٹوں میں مثبت رجحان کے بعد ایشیا پیسیفک خطے کی اسٹاک مارکیٹوں میں بھی نمایاں تیزی دیکھی گئی۔ جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان، ہانگ کانگ اور آسٹریلیا کے شیئر بازاروں میں سرمایہ کاروں نے بھرپور خریداری کی۔
جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس صبح کے کاروبار کے دوران 8 فیصد سے زائد بڑھ گیا جبکہ جاپان کا نکی 225 انڈیکس 4 فیصد تک اوپر چلا گیا۔ تائیوان کے ٹی اے آئی ای ایکس انڈیکس میں 2.4 فیصد جبکہ آسٹریلیا کے اے ایس ایکس 200 انڈیکس میں تقریباً 1.8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ انڈیکس بھی ایک فیصد سے زائد اضافے کے ساتھ ٹریڈ کرتا رہا۔
دوسری جانب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی۔ برینٹ کروڈ کی قیمت تقریباً ایک فیصد کم ہو کر 89.50 ڈالر فی بیرل سے نیچے آگئی۔ ماہرین کے مطابق اس کی بڑی وجہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم ہونے اور تیل کی ترسیل معمول پر آنے کی امید ہے۔
صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے سے متعلق ایک اہم معاہدہ آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے اور اس پر جلد دستخط متوقع ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دستاویزات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے اور اگر سب کچھ منصوبے کے مطابق رہا تو معاہدہ اسی ہفتے کے آخر میں طے پا سکتا ہے۔
اگرچہ ایران نے تاحال امریکی دعوؤں کی باضابطہ تصدیق نہیں کی، تاہم ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت زیر غور ہے اور اس حوالے سے مشاورت جاری ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان معاہدہ کامیابی سے طے پا جاتا ہے اور آبنائے ہرمز مکمل طور پر بحال ہو جاتی ہے تو عالمی مالیاتی منڈیوں میں مزید استحکام اور تیزی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔