کراچی: صومالی قزاقوں کی قید میں موجود پاکستانی یرغمالیوں کو 50 روز مکمل ہوگئے جبکہ جہاز پر موجود افراد کی ایک نئی ویڈیو بھی سامنے آگئی ہے۔
ذرائع کے مطابق ویڈیو یرغمالیوں کو جہاز کے ڈیک پر لا کر بنائی گئی ہے جس میں پس منظر میں سمندر بھی واضح نظر آ رہا ہے۔ ویڈیو میں یرغمالیوں نے پاکستان اور انڈونیشیا کی حکومتوں سے فوری مداخلت اور رہائی کے لیے عملی اقدامات کی اپیل کی ہے۔
یرغمالیوں کا کہنا ہے کہ وہ انتہائی مشکل حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، جہاں خوراک کے طور پر زیادہ تر صرف سادہ چاول میسر ہیں اور کئی بار قزاقوں سے کھانے کے لیے بھیک مانگنی پڑتی ہے۔ ان کے مطابق صاف پانی بھی محدود مقدار میں دستیاب ہے جبکہ روزانہ فائرنگ کی آوازوں کے باعث جان کا خطرہ مسلسل موجود رہتا ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ جہاز کی کمپنی نے اب تک قزاقوں کے ساتھ کوئی براہ راست مذاکرات نہیں کیے اور تمام ذمہ داری ایک تیسرے شخص "عثمان" کے حوالے کر دی گئی ہے، جسے قزاق تسلیم نہیں کرتے۔ یرغمالیوں کے مطابق قزاق صرف کمپنی کے اصل نمائندوں سے بات چیت چاہتے ہیں، مگر اب تک کوئی مؤثر پیش رفت نہیں ہو سکی۔
یرغمالیوں نے کہا کہ انہیں خوراک، ادویات اور بنیادی سہولیات کی شدید کمی کا سامنا ہے جبکہ عملے کے کئی افراد بیمار ہو چکے ہیں اور مناسب طبی سہولیات نہ ہونے کے باعث علاج ممکن نہیں، انہوں نے خبردار کیا کہ اگر فوری مدد نہ کی گئی تو صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے، جبکہ ایک ہفتے بعد انہیں قید میں دو ماہ مکمل ہو جائیں گے۔