”ٹوٹے خوابوں کا احتجاج“، ڈیرہ بگٹی کے نوجوان نے پریس کلب کے باہر اپنی ڈگریاں جلادیں

مایوسی اور محرومی کے اظہار کے طور پر نوجوان نے اپنی ڈگریاں جلانے کا فیصلہ کیا


ویب ڈیسک June 12, 2026

بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بگٹی سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان گریجویٹ قائم خان بگٹی نے طویل عرصے سے بے روزگاری اور سرکاری ملازمتوں کی عمر کی حد عبور کرنے کے بعد کوئٹہ پریس کلب کے باہر اپنے تعلیمی اسناد نذرِ آتش کر دیں، جس کا واقعہ سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا ہے۔

مقامی رپورٹس اور موقع پر موجود افراد کے مطابق قائم خان بگٹی کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد بلوچستان بھر میں متعدد امتحانات دیے اور مختلف آسامیوں کے لیے درخواستیں بھی جمع کرائیں، تاہم برسوں کی مسلسل کوششوں کے باوجود انہیں کوئی ملازمت نہ مل سکی۔ اسی مایوسی اور محرومی کے اظہار کے طور پر انہوں نے اپنی ڈگریاں جلانے کا فیصلہ کیا۔

نوجوان نے اس موقع پر حکومت سے اپیل کی کہ صوبے میں میرٹ پر مبنی اور شفاف بھرتی کا نظام یقینی بنایا جائے تاکہ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو برابری کی بنیاد پر مواقع مل سکیں۔ ان کے مطابق موجودہ حالات نے ان جیسے کئی نوجوانوں کے خواب چکنا چور کر دیے ہیں۔

سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز اور تصاویر میں نوجوان کو ڈگریاں جلاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جس کے بعد یہ واقعہ تیزی سے وائرل ہو گیا اور صارفین کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ کچھ صارفین نے اسے نوجوان کے شدید احتجاج اور نظام پر سوالیہ نشان قرار دیا، جبکہ بعض نے اسے مایوسی اور جذباتی ردعمل سے تعبیر کیا۔

مزید معلومات کے مطابق بلوچستان میں بالخصوص نوجوانوں میں بے روزگاری ایک دیرینہ مسئلہ سمجھا جاتا ہے، جہاں تعلیم یافتہ افراد کی بڑی تعداد سرکاری اور نجی شعبے میں مواقع نہ ملنے پر مشکلات کا شکار رہتی ہے۔ ماہرین کے مطابق صوبے میں روزگار کے مواقع اور میرٹ کے نظام پر مسلسل سوالات اٹھتے رہے ہیں، اور وقتاً فوقتاً ایسے احتجاجی واقعات بھی سامنے آتے رہتے ہیں۔

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

یہ بھی یاد رہے کہ اس طرح کے احتجاجی واقعات پاکستان میں مختلف مواقع پر دیکھے گئے ہیں، جہاں نوجوان اپنی تعلیم اور ڈگریوں کو بے روزگاری کے خلاف علامتی احتجاج کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ تاہم ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اس مسئلے کے حل کے لیے پالیسی سطح پر اصلاحات اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ناگزیر ہے۔