ایک نئی تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ دنیا بھر میں جوڑوں کے درد کے لیے استعمال کی جانے والی دوا ممکنہ طور پر الزائمر کی بیماری کی رفتار تیز کر سکتی ہے
یونیورسٹی آف فلوریڈا کی تحقیق کے مطابق مطالعے میں شریک وہ افراد جن میں یادداشت اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت میں ابتدائی خرابی کے آثار موجود تھے، اگر وہ گلوکوزامین سپلیمنٹ استعمال کر رہے تھے تو ان میں ڈیمنشیا میں مبتلا ہونے کا خطرہ دیگر افراد کے مقابلے میں 25 فی صد زیادہ تھا۔
جرنل نیچر میٹابولزم میں شائع تحقیق میں یہ بھی معلوم ہوا کہ جو مریض پہلے ہی الزائمر یا اس سے متعلقہ دماغی بیماریوں کا شکار تھے، ان کے گلوکوزامین کے استعمال کا موت کے خطرے میں 25 فی صد اضافے سے تعلق سامنے آیا۔
نیورو سائیکولوجسٹ ڈاکٹر جیسیکا میکارتھیکا کہنا تھا کہ یہ تحقیق اس نظریے کو مزید تقویت دیتی ہے کہ الزائمر صرف دماغ میں امائلائیڈ پلاکس اور ٹاؤ پروٹینز کے جمع ہونے کا نتیجہ نہیں، بلکہ اس کے ساتھ میٹابولزم کی خرابی اور جسمانی سوزش جیسے عوامل بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ چونکہ گلوکوزامین خون اور دماغ کے درمیان موجود حفاظتی رکاوٹ کو عبور کر سکتا ہے، اس لیے یہ دماغ میں پہلے سے زیادہ متحرک میٹابولک عمل کو مزید تیز کر سکتا ہے، جس کے نتیجے میں ابتدائی ذہنی کمزوری کے شکار افراد میں بیماری کی پیش رفت اور الزائمر کے مریضوں میں موت کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔