کاروباری اور صنعتی تنظیموں نے بجٹ 2026-2027 کو عوام دوست قرار دے دیا

بجٹ ملکی معیشت کے استحکام، سرمایہ کاری کے فروغ اور کاروباری سرگرمیوں میں اضافے کیلئے ایک مثبت قدم ہے


اسٹاف رپورٹر June 13, 2026

وفاقی بجٹ 2026-2027 پر ملک بھر کی کاروباری اور صنعتی تنظیموں نے حکومت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اسے معیشت کے استحکام، سرمایہ کاری کے فروغ اور کاروباری سرگرمیوں میں اضافے کی جانب ایک مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔

کاروباری تنظیموں نے وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب اور معاشی ٹیم کو عوام دوست بجٹ پیش کرنے پر مبارکباد بھی دی ہے۔

فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری، اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس، راولپنڈی چیمبر آف کامرس، پاکستان بزنس کونسل اور پاکستان بینکس ایسوسی ایشن سمیت مختلف کاروباری اداروں نے وفاقی بجٹ 2026-2027 کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ملکی معیشت کیلئے حوصلہ افزا قرار دیا ہے۔

فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا کہنا ہے کہ بجٹ ملکی معیشت کے استحکام، سرمایہ کاری کے فروغ اور کاروباری سرگرمیوں میں اضافے کیلئے ایک مثبت قدم ہے۔ فیڈریشن نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کاروباری برادری حکومت کے ساتھ تعاون جاری رکھتے ہوئے اقتصادی ترقی اور سرمایہ کاری کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔

اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے اور کاروباری شعبے کیلئے ریلیف اقدامات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے اوورسیز سپر ٹیکس میں کمی اور برآمدی شعبے کیلئے مراعات کو سرمایہ کاری کیلئے مثبت اشارہ قرار دیا۔

راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے تنخواہ دار طبقے پر سرچارج کے خاتمے اور انکم ٹیکس میں کمی کو متوسط طبقے کیلئے اہم ریلیف قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات سے کاروباری ماحول بہتر ہوگا اور معاشی سرگرمیوں میں تیزی آئے گی۔

پاکستان بزنس کونسل نے حکومت کی اقتصادی ٹیم کو بہترین بجٹ پیش کرنے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ بجٹ نے جامع اور پائیدار ترقی کو حکومتی ترجیح کے طور پر واضح کر دیا ہے جبکہ مختلف شعبوں کیلئے دیے گئے ریلیف اقدامات کاروباری برادری اور تنخواہ دار طبقے دونوں کیلئے فائدہ مند ثابت ہوں گے۔

پاکستان بینکس ایسوسی ایشن نے بھی بجٹ کو کئی برسوں بعد ایسا مالیاتی منصوبہ قرار دیا جو بحران سے نکل کر ترقی کے واضح اہداف پر مرکوز ہے۔

ایسوسی ایشن کے مطابق حکومت نے مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھتے ہوئے ترقی اور ریلیف کے درمیان متوازن حکمت عملی اپنائی ہے، جبکہ بینکاری شعبہ معیشت کی بحالی، نجی سرمایہ کاری کے فروغ اور اقتصادی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھے گا۔