کراچی: امہ ویلفیئر ٹرسٹ پاکستان نے اپنے انکم جنریشن پروگرام 2026 کے تحت بے روزگار اور مستحق افراد کو باعزت روزگار فراہم کرنے کے لیے اہم قدم اٹھاتے ہوئے پہلے مرحلے میں 65 افراد میں مفت آٹو رکشے اور موٹرسائیکلیں تقسیم کر دیں۔
کلفٹن میں واقع امہ ویلفیئر ٹرسٹ پاکستان کے زونل آفس میں منعقدہ ایک پروقار تقریب کے دوران 30 آٹو رکشے اور 35 موٹرسائیکلیں مستحق افراد کے حوالے کی گئیں تاکہ وہ اپنے خاندانوں کی کفالت کے لیے مستقل ذریعہ معاش حاصل کر سکیں۔
تقریب میں امہ ویلفیئر ٹرسٹ یوکے کے سینئر ٹرسٹی مولانا محمد، چیئرمین امہ ویلفیئر ٹرسٹ پاکستان مولانا محمد ادریس، وائس چیئرمین حاجی عبدالرزاق بیلی، شاہنواز خان، حاجی بلال بگٹی، حاجی حبیب اللہ نیازی، ڈاکٹر حمزہ بیلی، آفاق خان، مفتی محمد مدنی، معروف اسلامی اسکالر مولانا منظور مینگل، وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر سید نجمی عالم، رکن سندھ اسمبلی یوسف بلوچ، سماجی رہنما ارشاد بخاری اور دیگر معزز شخصیات نے شرکت کی۔
اس موقع پر مقررین نے کہا کہ امہ ویلفیئر ٹرسٹ پاکستان صرف فلاحی امداد تک محدود نہیں بلکہ معاشی خودکفالت کے منصوبوں پر بھی بھرپور توجہ دے رہا ہے تاکہ غربت اور بے روزگاری کے خاتمے میں عملی کردار ادا کیا جا سکے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے بتایا کہ ادارہ اب تک 469 مستحق افراد کو رکشے اور موٹرسائیکلیں، 150 افراد کو کاروبار کے لیے دکانیں جبکہ 5 ہزار 975 خواتین کو سلائی مشینیں فراہم کر چکا ہے، جس کے نتیجے میں ہزاروں خاندانوں کے لیے مستقل آمدنی کے ذرائع پیدا ہوئے ہیں۔
ڈاکٹر حمزہ بیلی نے بتایا کہ انکم جنریشن پروگرام 2026 کے تحت کراچی میں رواں سال مجموعی طور پر 200 آٹو رکشے اور موٹرسائیکلیں مکمل طور پر بلا معاوضہ مستحق افراد میں تقسیم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کا مقصد ضرورت مند افراد کو خیرات کے بجائے باعزت روزگار فراہم کرنا ہے تاکہ وہ اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکیں اور اپنے خاندانوں کی کفالت خود کر سکیں۔